مشرق وسطی جنگ کے دو ہفتے

   

زخموں پہ جن کے وقت بھی مرہم نہ رکھ سکا
کچھ واقعات ایسے المناک ہوگئے
مشرق وسطی میں جنگ کے دو ہفتے پورے ہوچکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں ایک طرح سے پھنس چکے ہیں اور ایران اب اس جنگ کو اپنے انداز سے آگے برھانے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ایران نے جو حکمت عملی اس جنگ میں اختیار کی ہوئی ہے وہ اسرائیل اور امریکہ کی توقعات کے برخلاف کہی جاسکتی ہے ۔ امریکہ اور یہودی اسرائیل کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران اس جنگ کو اتنے دن جھیل پائے گا ۔ اب یہ صورتحال پیدا ہونے لگی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کیلئے اس جنگ سے نکلنے کے راستے مسدود یا کم از کم انتہائی مشکل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران نے انتہائی کم خرچ والے ڈرونس استعمال کرتے ہوئے امریکی اور اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا جبکہ امریکہ کی جانب سے ان ڈرونس کو روکنے یا ناکارہ بنانے کیلئے جو میزائیل داغے گئے تھے ان کی مالیت کئی ملین ڈالرس کی بتائی گئی ہے ۔ امریکہ کیلئے یہ جنگ اس لئے بھی مہنگی پڑنے لگی ہے کہ اس جنگ اب پر اب تک بھاری نقصانات ہوچکے ہیں اور اس جنگ کا فی الحال کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ۔ امریکہ کیلئے کم از کم یہ صورتحال ضرور بن گئی ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے کے راستے تلاش کرنے لگا ہے اور صورتحال اس قدر گنجلک اور پیچیدہ ہوگئی ہے کہ اسے فی الحال کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے بھڑاس نکالنے کیلئے ایران کے خلاف حملوں میں شدت پیدا کی جا رہی ہے ۔ کئی ایسے ٹھکانوں اور مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کا فوج یا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس کے باوجود امریکہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ امریکہ جنگ جیت چکا ہے اور ایران بہت جلد گھٹنے ٹیکنے والا ہے ۔ یہ ایک جنگی ہیجان پیدا کرنے کی حکمت عملی ہے جو ایران کے معاملے میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ امریکہ اکثر و بیشتر جنگی حالات میں اس طرح کا ہیجان ضرور پیدا کرتا ہے اور اسے کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے لیکن ایران کے معاملے میں یہ حکمت عملی کامیاب ہونے کے امکانات کافی کم دکھائی دے رہے ہیں یا بالکل ہی نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔
خود امریکہ میں یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت ایران پر مسلط کی گئی جنگ کی مخالفت کر رہی ہے ۔ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ جب ایران سے امریکہ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے تو دوسروں کی جنگ امریکہ کیوں لڑ رہا ہے اور امریکہ پر مالی بوجھ کیوں برداشت کیا جا رہا ہے ۔ در اصل امریکہ ایران کے خلاف جو جنگ لڑ رہا ہے وہ اسرائیل کی بقاء کیلئے لڑ رہا ہے ۔ گریٹر اسرائیل کے منصوبہ کو آگے بڑھانے کے مقصد سے یہ جنگ لڑی جا رہی ہے اور امریکہ اس کا برملا اقبال بھی نہیں کرسکتا ۔ امریکی کانگریس کے ارکان میں بھی یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایپسٹین فائیلس کے مسئلہ سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے یہ جنگ شروع کی ہے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسی وجہ سے امریکہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے اکسایا تھا اور بعد میںیہ کہا تھا کہ پاکستان ‘ افغانستان کے خلاف اچھے اقدامات کر رہا ہے ۔ تاہم جب ایران کے خلاف جنگ شروع کردی گئی تو پاکستان ۔ افغانستان تنازعہ کہیں پس منظر میں چلا گیا اور اب ساری توجہ ایران جنگ کی سمت مبذول ہوگئی ہے ۔ دو ہفتے گذرنے کے باوجود امریکہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تو دور کی بات ہے لہجہ میں نرمی لانے کیلئے بھی مجبور نہیں کرسکا ہے ۔ ایران کے جو تیور ہیں وہ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکہ کے رویہ میں نرمی لائی جاسکتی ہے اور امریکہ کو راست یا بالواسطہ طور پر گھٹنے ٹیکنے کیلئے مجبور کیا جاسکتا ہے اور اس تعلق سے ایران کی جو حکمت عملی ہے وہ کامیاب ہوتی نظر آر ہی ہے ۔
امریکہ کیلئے ایران جنگ سے باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔ امریکہ اتنی آسانی سے اپنی شکست تسلیم بھی نہیں کرسکتا ۔ اگر امریکہ جلد بازی میں اس جنگ سے فرار اختیار کرتا ہے تو دنیا بھر میں اس کی ساکھ متاثر ہو کر رہ جائے گی ۔ خاص طور پر مشرق وسطی کے ممالک امریکہ کے خوف سے آزاد ہوجائیں گے اور ایران کی اجارہ داری کو روکنا مشکل ہوجائے گا ۔ علاقہ اور خطہ میں ایران کا اثر بڑھ جائے گا ۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بناء پر امریکہ کھل کر جنگ بندی کی بات نہیں کر رہا ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ وہ اس جنگ سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے لگا ہے اور اس کیلئے اپنے چینلس استعمال کر رہا ہے ۔ ابھی یہ کہا نہیں جاسکتا کہ امریکہ کو فرار کا راستہ دستیاب ہو بھی پائے گا یا نہیں۔
بنگال ‘ بی جے پی کا پرانا راگ
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اور بی جے پی کی جانب سے ریاست پر ساری توجہ مرکوز کرتے ہوئے روایتی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے بنگال کے دورے بھی بڑھ گئے ہیں۔ آج بھی وزیر اعظم نے بنگال کا دورہ کیا ۔ انہوں نے اس موقع پر سیاسی تبصرے کرنے سے گریز نہیں کیا اور کہا کہ بنگال میں ترنمول کانگریس کی جانب سے در اندازوں کو بچانے کیلئے ایس آئی آر کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ در اصل جس ریاست میں اسمبلی انتخابات ہوتے ہیں بی جے پی کو در انداز یاد آجاتے ہیں۔ مرکز میں بی جے پی گذشتہ 12 برس سے اقتدار میں ہے اور اس نے تاحال ایک درجن در اندازوں کو بھی شائد ملک سے نکال باہر نہیں کیا ہے اور نہ ہی در اندازوں کی کوئی باضابطہ شناخت کی گئی ہے ۔ بی جے پی محض سیاسی فائدہ کیلئے جس طرح فرقہ واریت کو فروغ دیتی ہے اسی طرح سے در اندازی کا مسئلہ بھی موضوع بحث بناتی ہے اور بنگال میں بھی یہی کچھ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے ۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس کا شائد بی جے پی کو بنگال میں کوئی فائدہ نہیں مل پائے گا کیونکہ بنگال میں ممتابنرجی کی گرفت کافی مستحکم ہے ۔