مشیرآباد میں مندر اور مسجد کو سڑک سے ہٹانے تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت

   

حیدرآباد۔/7 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور ریوینیو عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ جی وی ایم روڈ تا مشیرآباد نیو باکارم علاقہ میں عبادت گاہوں اور غیر مجاز تعمیرات کو ہٹادیں۔ عبادت گاہوں میں ایک مندر اور ایک مسجد شامل ہیں۔ عدالت نے اندرون تین ہفتے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ جسٹس ابھینند کمار شاولی اور جسٹس این راجیشور راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے شتابدی نیلائم فلیٹس اونرس اسوسی ایشن کے نمائندے کے سریدھر ریڈی کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔ درخواست گذار نے عدالت کے احکامات کے باوجود سڑک کے دونوں جانب عہدیداروں کی جانب سے غیر مجاز تعمیرات کو برخاست نہ کرنے کی شکایت کی۔ جنا پریہ اپارٹمنٹ مشیرآباد جانے والی سڑک پر یہ تعمیرات ہیں۔ سریدھر ریڈی نے 2022 میں ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی اور اسی وقت کلکٹر اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حکام کو غیرمجاز عمارتوں کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ سریدھر ریڈی نے اسوقت کے پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق اروند کمار، کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار اور اسوقت کے کلکٹر حیدرآباد اموئے کمار کو مقدمہ میں فریق بناتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔ عہدیداروں کا فی الوقت تبادلہ ہوچکا ہے لیکن انہوں نے برسرعہدہ رہتے ہوئے عدالتی احکامات کی تکمیل نہیں کی۔ عدالت نے کمشنر جی ایچ ایم سی رونالڈ راس اور کلکٹر انودیپ درشٹی کو سمن جاری کیا اور دونوں عہدیدار عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور اندرون چار ہفتے احکامات پر عمل آوری کا تیقن دیا۔ عدالت نے کہا کہ غیر مجاز تعمیرات چاہے وہ مندر ہو یا مسجد اگر سڑک کے حدود میں موجود ہیں تو انہیں منتقل کیا جانا چاہیئے۔1