وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ملک بھر میں ایک ویڈیو سوشیل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ یہ ویڈیو دہلی کے قریب غازی آباد کا ہے جہاں ایک پولیس عہدیدار موبائیل نما کسی مشین کے ذریعہ عوام کی شہریت کا پتہ چلانے کی کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پولیس عہدیدار کچھ لوگوںکو روک کر ان سے سوال کرتا ہے کہ آیا وہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہیں۔ جب یہ لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ لوگ ہندوستانی ہیں اور بہار کے اراریہ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں تو پولیس عہدیدار ایک شخص کی پشت پر موبائیل فون نما آلہ لگانے کی بات کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ مشین تو کہتی ہے کہ تم لوگ بنگلہ دیشی ہو ۔ یہ ویڈیو ملک بھر میں انتہائی تیزی کے ساتھ وائرل ہوگیا ہے اور یہ سوال کئے جا رہے ہیں کہ آیا یہ کونسا مشین ہے کہ وہ کسی کی شہریت کا تعین کر دکھائے ۔ حکومت نے تو اس طرح کے کسی مشین کا کبھی تذکرہ تک نہیں کیا ہے تو پھر اس پولیس عہدیدار کے پاس یہ کون سی مشین آگئی ہے اور اس مشین کا استعمال کرتے ہوئے شہریت کا تعین کرنے کا اس پولیس اہلکار کو کس نے اختیار دیا ہے ۔ یہ واقعہ صورتحال کی عکاسی کرنے کیلئے کافی ہے کہ کس طرح سے عوام کو اور خاص طور پر غریب اور پچھڑے ہوئے افراد کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان سے شہریت پر سوال کئے جا رہے ہیں۔ ملک بھر میں در اندازی اور بیرونی شہریوں کی موجودگی کا اس قدر پروپگنڈہ کیا گیا ہے کہ خود ہندوستانی شہریوں کیلئے مشکلات پیش آنے لگی ہیں۔ غریب عوام خوف کے سائے میں زندگی گذارنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور ان کو کئی طرح کے اندیشے لاحق ہورہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے تاحال اس سارے معاملہ پر کسی طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے تاہم پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان ضرور کردیا ہے ۔ یہ واقعہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سے عوام میں ان کی شہریت کے تعلق سے خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور غریب عوام کو ہراساں کرنے سے پولیس بھی گریز نہیں کر رہی ہے ۔ یہ واقعہ منفی سوچ اور طئے شدہ پروپگنڈہ کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا ثبوت کہا جاسکتا ہے ۔
جس طرح سے ہندوستان بھر میں اور خاص طور پر کچھ مخصوص ریاستوں میں در اندازوں کی موجودگی کا پروپگنڈہ سیاسی اغراض و مقاصد کیلئے کیا گیا ہے اس کے اثرات اب دکھائی دینے لگے ہیں اور پولیس بھی عوام میں اعتماد پیدا کرنے اور ان میں سلامتی کا احساس اجاگر کرنے کی بجائے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ دنیا میں اس طرح کی کوئی مشین یا آلہ ایجاد نہیں ہوا ہے جس کے ذریعہ کسی کی بھی شہریت کا پتہ چلایا جاسکے ۔ غریب اور پسماندہ افراد کو دیکھتے ہوئے ایک مشین کا استعمال کرتے ہوئے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کرنا انتہائی مذموم حرکت ہے اور ایسا کرنے والے پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ اس سے جواب طلب کیا جانا چاہئے اور اس کے خلاف محکمہ جاتی تادیبی کارروائی شروع کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ غازی آباد پولیس کی جانب سے اس واقعہ کی تحقیقات کا اعلان تو کردیا گیا ہے تاہم تحقیقات کو ان کے منطقی انجام تک پہونچانے کی ضرورت ہے ۔ اس عہدیدار سے جواب طلب کیا جانا چاہئے اور باز پرس کی جانی چاہئے ۔ ایک سلم بستی کے عوام میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقہ میں معمول کی چیکنگ کے دوران یہ واقعہ پیش آیا ہے جس کی ویڈیو ملک بھر میں بہت تیزی کے ساتھ سوشیل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر وائرل ہوگئی ہے ۔
یہ ویڈیو اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سے حکومت کی مختلف ایجنسیوں میں بھی ایک مخصوص سوچ پنپ رہی ہے اور وہ لوگ کس طرح سے اپنے سرکاری عہدوں اور اختیارات کا بیجا استعمال کر رہے ہیں۔ غریب عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا اور ان میں اعتماد بحال کرنا سرکاری ایجنسیوں کا کام ہوتا ہے لیکن یہاں پولیس انہیں خوفزدہ کرتی نظر آئی ہے ۔ حکومت کو اس سارے معاملے کا نوٹ لیتے ہوئے غریب افراد کو خوفزدہ کرنے والے پولیس عہدیدار کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام میں اعتماد بحال ہوسکے اور دوسرے اہلکاروں میں عہدہ اور اختیارات کے بیجا استعمال کی حوصلہ شکنی ہو ۔
