انٹرنیشنل آربٹریشن اینڈ میڈیشن سنٹر کا افتتاح ۔ جسٹس این وی رمنا اور کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد۔19ڈسمبر(سیاست نیوز) چیف جسٹس ‘جسٹس این وی رمنا نے نانک رام گوڑہ میں عالمی معیار کے مصالحتی مرکز کا افتتاح انجام دیا اس موقع پر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے علاوہ کئی سرکردہ قائدین ‘ ججس ‘ وکلاء اور ماہرین قانون موجود تھے۔ جسٹس این وی رمنا نے انٹرنیشنل آربٹریشن اینڈ میڈیشن سنٹر کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تجویز کو چیف منسٹر کے سی آر نے قبول کرکے انتہائی قلیل مدت میں عالمی معیار کے مصالحتی مرکز کے قیام کے ذریعہ مثال قائم کی ہے۔ جسٹس رمنا نے کہا کہ دور حاضر میں کم وقت اور کم خرچ میں قانونی مسائل کے حل کو یقینی بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے اور اس مرکز میں تمام طرح کے مقدمات کی یکسوئی کے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ طویل عدالتی رسہ کشی کے بجائے مصالحت کے ذریعہ مقدمات کی یکسوئی کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہو ںنے کہا کہ اس مرکز کے مقاصد کے حصول کے لئے عوام میں شعور اجاگر کرکے انہیں مصالحت کیلئے لانا ضروری ہے۔ جسٹس رمنا نے کہا کہ تلنگانہ میں ثالثی اور مصالحتی امور کو یقینی بنانے میں یہ مرکز انتہائی اہم کردار اداکرے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ انٹرنیشنل آربٹریشن اینڈ میڈیشن سنٹرعالمی سطح پر عوامی اور عدالتی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں ثالثی اور مصالحت کے ذریعہ مقدمات کی یکسوئی پر توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ طویل مدتی مقدمات پر نہ صرف دولت خرچ ہورہی ہے اور تضیع اوقات کے سبب عوام میں مایوسی پیدا ہونے لگی ہے ۔چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت سے شہر میں ہر شعبہ میں عالمی معیار کے ادارہ کے قیام کی کوشش کی جار ہی ہے اور حکومت حیدرآباد کو اس مقام پر پہنچانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ انہو ںنے سنٹر کے قیام میں چیف جسٹس جسٹس رمنا کی شخصی دلچسپی کا تذکرہ کرتے ہوئے 25000 مربع فیٹ پر قائم مرکز کے قیام میں چیف جسٹس کا اہم کردار ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ چیف جسٹس شہر کو زیادہ پسند کرتے ہیں اسی لئے انہوں نے اس مرکز کیلئے حکومت کو تجویز پیش کی تھی جس پر فوری کارروائی کرکے سنٹر قائم کیا گیا ۔ چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ عدالتوں کی جوصورتحال ہے اور شہریوں کو جن حالات کا سامنا ہے ایسے میں ثالثی و مصالحت سے تنازعات کو حل کیا جاسکتا ہے۔ تقریب میں وزیر داخلہ محمد محمود علی ‘وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ‘‘ چیف سیکریٹری سومیش کمار‘ ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی و دیگر موجود تھے۔م