نئی دہلی، 26 ستمبر (یو این آئی) مرادآباد کے پاکبڑا علاقے میں واقع مصطفیٰ مسجد کے سلسلے میں 24 ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ میں مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے ) کی جانب سے واضح طور پر یقین دہانی کرائی گئی کہ انہدامی حکم کے صادر کیے بغیر مسجد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس معاملے میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر مسجد فریق کو قانونی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ششی نندن اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ آدتیہ پریہار عدالت میں پیش ہوئے ، جب کہ ایڈوکیٹ محمد طاہر حکیم اور ایڈوکیٹ محمد نظام پاشا نے قانونی رہ نمائی فراہم کی۔ 24 ستمبر 2026 کو جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس کنال روی سنگھ پر مشتمل الہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے معاملے کی سماعت کی۔واضح ہو کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب 21 اگست 2026 کو مصطفیٰ مسجد کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا جس کے خلاف مسجد کے ذمہ دار زیشان احمد فرید نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت کے سامنے عرضی گزار کی جانب سے سینئر وکیل ششی نندن نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ نوٹس مبہم ہے ۔ متنازعہ نوٹس 21.08.2026کو جاری کیا گیا تھا۔ عرضی گزار کو جواب داخل کرنے کیلئے کم از کم 15 دن کا وقت دیا جانا چاہیے تھا، لیکن جواب داخل کرنے کی تاریخ 3.09.2026 مقرر کی گئی۔مزید کہا گیا کہ زمین کی تفصیل بھی درست نہیں ہے ، کیونکہ نوٹس میں اس رقبے کی وضاحت نہیں کی گئی ہے جسے منہدم کیا جانا ہے ۔ دوسری جانب مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایم۔ سی۔ چترویدی نے ایک ہفتے کا وقت طلب کیا اور یقین دہانی کرائی کہ جب تک کوئی انہدامی حکم صادر نہیں ہوتا، اس وقت تک کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اب اس مقدمے کی اگلی سماعت 28 ستمبر کو ہوگی۔