نیویارک: اسکولوں میں طلبا کی طرف سے امتحانات پاس کرنے، ٹسٹ دینے اور اسائنمنٹس کی تیاری میں نقل کی کوشش معمول کی بات رہی ہے مگرانفارمیشن ٹیکنالوجی کی معرکہ الاراء ایجاد ’مصنوعی ذہانت‘ ایسے افراد جو تحقیق سے جی چراتے اور نقل کے سہارے امتحان پاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیلئے ایک نئی سہولت قرار دی جا سکتی ہے۔گویا امتحانات میں دھوکہ دہی کی سہولت فراہم کرنے کیلئے جدید اختراعی طریقہ کی کمی تھی سو وہ بھی پوری ہوگئی ہے۔پرانے دور میں امتحانات میں دھوکہ دہی کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اب ایسے لگتا ہے کہ لوگوں کی علمی دھوکہ دہی کی ہمت بڑھتی جا رہی ہے۔ طلبا کے کوئی بھی پرچہ کھولنے سے پہلے ہی توقعات اور انتظار کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ کوئی کا غذ کا پرزہ، یاتھ یا قلم سے کوئی اشاری نکمے طلبا کیلئے امتحان میں کچھ کر گذرنے کا آخری سہارا ہوتا تھا۔