لامکان میں سٹیزن ایکشن برائے منی پور کا منفرد پروگرام
حیدرآباد۔28جنوری (سیاست نیوز)سٹیزن ایکشن برائے منی پور کے عنوان پر ایک قومی تحریک کے حصہ کے طور پر سماجی تحریکات کے مرکز ’’لامکان ‘‘ پر کووا کے زیر اہتمام منفرد انداز کا ایک پروگرام پیش کیاگیا جس میں خواتین او رلڑکیوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی مایہ ناز مصوری اور فن کے ذریعہ منی پور نو ماہ سے جاری تشدد پر اظہار مذمت کیا ہے۔خواتین اورلڑکیوں نے رنگولی کے ذریعہ منی پور میںپیش آنے والے تشدد کے واقعات کی منظر کشی اور منی پور میںتشدد کے خاتمے‘ امن کی بحالی کے لئے اپیل کی ۔اس مہم میں مظاہرین نے جہاں رنگولی سے منی پور میںجاری مظالم کی داستانیں رقم کی وہیںہاتھوں میںپلے کارڈس تھامے منی پور کے مظلوم عوام سے اظہار یگانگت کیا اور حکومتوں سے امن قائم کرنے ‘اتحاد کو بحال کرنے او رہم آہنگی کوفروغ دینے کی بھی اپیل کی ۔سات اپیل میںمظاہرین نے منی پور میں تشدد زدہ دونوں کمیونٹیوں میںبات چیت کے ذریعہ مفاہمت پر زوردیا اور جو لوگ تشدد کی وجہہ سے بے گھر ہوکر نقل مقام کرچکے ہیں انہیں محفوظ طریقے سے دوبارہ منی پور میںان کے مقام پر آباد کرنے کے علاوہ منہدم اور نذر آتش مکانات کی دوبارہ تعمیر کو یقینی بنانااور بنیادی سہولتیں جیسے تعلیم ‘ صحت‘ ادویات ‘ اشیائے ضروری اور دیگر چیزوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ۔قانون کی بالادستی قائم کرنا او رغیرقانونی ہتھیارو ںکی منتقلی کو مستعدی سے روکنا ۔ ایک آئینی ٹیم کی تشکیل عمل میںلانا جو وقت مقررہ پر تحقیقات کرے اور خاطیو ں کو منظر عام پر لانے کے ساتھ ساتھ کیفرکردار تک پہنچانے کاکام کرے۔اس کے علاوہ صدمہ سے دوچار عوام میں یقین کو بحال کرنے کی مانگ کی ہے۔مظاہرین نے دیا جلاکر منی پور میںتشدد زدہ عوام کے ساتھ اظہار یگانگت بھی کیا۔ واضح رہے کہ منی پور میں 9ماہ سے دو کمیونٹیوں کے درمیان میںتشدد کا سلسلہ جاری ہے ۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک 200سے زائد لوگ اس تشدد میںہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اندرونی سطح پر بے گھر ہونے والے 7000کے قریب لوگ پہاڑی اور وادی بھر میں 328راحت کیمپوںمیںزندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔