مظاہروں کے بعد نتن یاہو کا عدالتی اصلاحات پر موقف نرم

   

تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے پیر کے روز اپنی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے عدالتی اصلاحات کے معاملے پرنرمی اسرائیل میں کئی ماہ سے جاری وسیع پیمانے پر احتجاج اور مغربی ممالک کی طرف سے تل ابیب پر دباؤ کی کا نتیجہ ہے۔ایسا لگتا تھا کہ نتن یاہو جنہیں پارلیمانی اکثریت حاصل ہے 2 اپریل سے شروع ہونے والی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی تعطیل سے قبل اصلاحاتی پیکج منظور کرنے کے لیے تیار تھے، لیکن انہوں نے اور قومی مذہبی اتحاد میں ان کے اتحادیوں نے اجلاس کے بیشتر پہلوؤں کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم 30 اپریل سیکنیسیٹ کے دوبارہ اجلاس شروع ہونے کے بعد عدالتی اصلاحات کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ترمیم شدہ قانون منظوری کے بعد اگلے ہفتوں میں ججوں کے انتخاب کے لیے اسرائیل میں استعمال ہونے والے طریقہ کار کو تبدیل کر دے گی، جس سے ان اصلاحات کے حوالے سے زیادہ تر تنازعات پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ مخالفین نتن یاہو پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اسرائیل کی آزادی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔