تلنگانہ قانون ساز کونسل RPWD ACT 2016 پر مکمل عمل آوری کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے معذورین کے حقوق کی فراہمی کو احسان نہیں بلکہ حکومت کا اخلاقی فریضہ قرار دیا اور حکومت کو کاغذی اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی نے آج کونسل میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق ایکٹ RPWD Act 2016 پر مکمل عمل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم میں 5 فیصد ریزرویشن کے حالیہ فیصلے کو خوش آئند قرار دیا تاہم واضح کیا کہ جب تک پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک تمام سرکاری و خانگی اداروں میں جامع اصلاحات نافذ نہیں ہوتے تب تک ہزاروں خاندانوں کو حقیقی فائدہ نہیں پہونچتا ۔ ڈاکٹر شراون نے نشاندہی کی کہ قانون کے تحت تسلیم شدہ 21 اقسام کی معذوریوں کے باوجود معلومات کے فقدان ، ابتدائی تشخیص کے سرکاری مراکز کی کمی اور مہنگے خانگی اداروں کا دباؤ غریب و متوسط طبقے کے لیے سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ قانون ساز کونسل میں پیش کی گئی تجاویز میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام تعلیمی اداروں میں ریزرویشن اور مالی معاونت کو لازمی بنایا جائے ۔ سرکاری سطح پر تھراپی و تشخیص مراکم قائم کئے جائیں ۔ ہر اسکول میں تربیت یافتہ ماہر نفسیات اور خصوصی اساتذہ تعینات ہوں ۔ طلبہ کے لیے مکمل مالی رعایت اور موثر اسکالر شپ اسکیمات متعارف کرائی جائے اور قانون پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ریاستی و ضلعی سطح پر مانیٹرنگ باڈیز قائم کی جائے ۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ یہ محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور ہمدرد معاشرے کی تعمیر کا سوال ہے ۔ انہوں نے حکومت سے طبی ماہرین اور این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے زور دیا کہ ہر بچے کو مساوی مواقع فراہم کئے بغیر ریاست کا روشن مستقبل ممکن نہیں ہے ۔۔ 2