لکھنؤ: معروف شاعر منور رانا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ وہ کئی دنوں سے بیمار تھے اور لکھنؤ کے پی جی آئی ہاسپٹل میں زیرعلاج تھے۔ منور رانا کو گردے اور دل سے متعلق کئی مسائل تھے۔ گزشتہ سال منور رانا کو طبیعت کی خرابی کے باعث لکھنؤ کے اپولو ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس وقت بھی ان کی حالت اتنی بگڑ گئی تھی کہ انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔منور رانا کی بیٹی اور ایس پی لیڈر سمیہ رانا نے بتایا کہ ان کے والد کی طبیعت پچھلے دو تین دنوں سے خراب تھی۔ ڈائیلاسز کے دوران انہیں پیٹ میں درد ہوا جس کی وجہ دواخانہ میں شریک کیا گیا۔ ان کے پتے میں کچھ مسئلہ تھا، جس کی وجہ سے ان کا آپریشن ہوا۔ جب ان کی صحت بہتر نہیں ہوئی تو وہ وینٹی لیٹر سپورٹ سسٹم پر چلے گئے اور انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 71 سال تھی۔ انہوں نے 2014 میں اردو ادب کیلئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کو ٹھکرا دیا اور ملک میں مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے دوبارہ کبھی سرکاری ایوارڈ قبول نہ کرنے کا عزم کیا۔ رانا اپنے بیانات کے حوالے سے اکثر تنازعات میں گھرے رہتے تھے۔ منور رانا اتر پردیش کی سیاست میں کافی سرگرم تھے۔ منور رانا کی پیدائش 26 نومبر، 1952ء کو ہوئی۔ اردو ادب کی دنیا میں ایک معتبر اور مقبول نام منور رانا ہیں۔ انھوں نے اردو ہی نہیں بلکہ ہندی شاعری میں بھی اپنا نام روشن کیا ہے۔ اردو اور ہندی ادبی دنیا میں عالمی سطح پر مشہور منور رانا کی پیدائش اتر پردیش کے شہر رائے بریلی میں ہوئی۔ ان کے رشتہ دار مع دادی اور نانی، تقسیم ہندوستان کے وقت پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن ان کے والد ہندوستان سے اٹوٹ محبت کی وجہ سے ہندوستان ہی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ بعد میں ان کا خاندان کولکتہ منتقل ہو گیا۔ یہیں پر منور رانا کی ابتدائی تعلیم ہوئی۔منور رانا کی شاعری میں غزل گوئی نے خاص جگہ بنائی۔ ان کے کلام میں ’ماں‘ پر لکھا کلام کافی مقبول ہے۔ ان کی غزلیں، ہندی، بنگلہ (بنگالی) اور گرومکھی زبانوں میں بھی ہیں۔منور رانا نے اپنے کلام میں روایتی ہندی اور اودھی زبان کو بخوبی استعمال کیا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں کافی شہرت اور مقام ملا۔