معیشت بد حال ‘ پیسہ باہر جا رہا ہے

   

کماتا تو ہوں میں لیکن کمائی ڈوب جاتی ہے
معیشت خود مجھ ہی سے اوب جاتی ہے
ہندوستان میں حکومت کی جانب سے لگاتار یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ملک کی معیشت بالکل مستحکم ہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ یہ بھی دعوی کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا ہے ۔ ہر شعبہ میں ملک ترقی کا سفر طئے کر رہا ہے تاہم حکومت کے دعووں سے قطع نظر صورتحال قدرے مختلف نظر آتی ہے ۔ یہ درست ہے کہ کئی شعبہ جات میں ملک ترقی کر رہا ہے اور ساری دنیا ہندوستان کی ترقی سے متاثر ہو رہی ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کی معیشت میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے اور معیشت مشکل دور سے گذر رہی ہے ۔ حکومت بھلے ہی اس کا اعتراف نہ کرے تاہم آثار و قرائن یہی بتاتے ہیں کہ ملک کی معیشت مشکل وقت سے گذر رہی ہے اور آئندہ وقتوں میں بھی فوری کسی راحت یا آسانی کا امکان نظر نہیں آتا ۔ جو تازہ اعداد و شمار ہیں اس کے مطابق ہندوستان میں راست بیرونی سرمایہ کاری کی شرح میں مسلسل گراوٹ آر ہی ہے ۔ حالانکہ کئی اداروں کی جانب سے ملک میں سرمایہ کاری کے دعوے کئے جا رہے ہیں تاہم لگاتار چار مہینوں سے ہندوستان میں راست بیرونی سرمایہ کاری کی شرح منفی درج کی جانے لگی ہے ۔ یہی مشکل صورتحال کا ثبوت ہے کیونکہ بیرونی کمپنیاں اور ادارے ہندوستان سے اپنا سرمایہ واپس لے رہے ہیں اور وہ دیگر ممالک میں کمپنیاں اور مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے لگے ہیں۔ گذشتہ چار مہینوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تویہ واضح ہوجائے گا کہ ان چار مہینوں میں ملک میں اتنی راست بیرونی سرمایہ آئی نہیں ہے جتنا سرمایہ بیرونی کمپنیوں نے واپس نکال لیا ہے اور وہ یہ پیسہ دوسرے ممالک کو منتقل کرتے ہوئے وہاں تجارت کو فروغ دینے اقدامات کر رہے ہیں۔ لگاتار چار مہینوں سے اسی صورتحال کا برقرار رہنا ہندوستان کی معیشت کیلئے اچھی علامت نہیں کہا جاسکتا اور اس کے نتیجہ میں ملک میں معاشی سرگرمیوں پر اثر ہونے کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں۔ بیرونی کمپنیوں کا سرمایہ بھی ہندوستان کی معیشت میں اہم رول ادا کرتا رہا ہے اور لگاتار اگر یہ سرمایہ نکالا جائے اور بیرونی ممالک کو منتقل کیا جائے تو مشکل ضرور پیدا ہوگی ۔
ہندوستان کی اسٹاک مارکٹ بھی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی کمپنیاں مسلسل اپنا سرمایہ واپس نکال رہی ہیں۔ اسی وجہ سے اسٹاک مارکٹ میں بھی گراوٹ دیکھی گئی ہے ۔ گذشتہ ہفتے کے دوران اسٹاک مارکٹ میں کافی گراوٹ آئی ہے اور سرمایہ کاروں کو لاکھوں کروڑ روپئے کے سرمایہ سے محروم ہونا پڑا ہے ۔ انہیں بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ہندوستان کی کئی مشہور اور بڑی کمپنیوں کے اسٹاکس کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے اور یہ چار فیصد تک کم ہوگئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ نکاسی کی وجہ سے ہی اسٹاک مارکٹ کی صورتحال پر اثر پڑا ہے اور ہندوستان کے سرمایہ کاروں کو بھی بھاری نقصانات برداشت کرنے پڑے ہیں۔ یہ جو نقصانات ہیں وہ معمولی یا عام نہیں کہے جاسکتے کیونکہ لگاتار نقصانات تشویش کا باعث ہیں۔ اسٹاک مارکٹ کا اتار ۔ چڑھاٰؤکوئی نئی بات نہیں ہے لیکن لگاتار گراوٹ اور کئی کئی دن تک مارکٹوں کا نقصان کا شکار رہنا اچھی بات نہیں کہی جاسکتی اور اس صورتحال کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ ہندوستانی سرمایہ کاروں کے لاکھوں کروڑ روپئے ڈوب گئے ہیں اور بیرونی کمپنیاں کچھ عرصہ ہندوستان میں اپنی چاندی بنانے کے بعد اب دوسرے ممالک کا رخ کرنے لگی ہیں۔ اگر اس سلسلہ کو فوری روکا نہ جائے اور موثر اقدامات نہ کئے جائیں تو ہندوستانی بازاروں کا حال بھی برا ہوگا اور اس کے نتیجہ میں معیشت سے تعلق رکھنے والے کئی اہم شعبہ جات کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ مینوفیکچرنگ کے شعبہ کی کارکردگی پر اس کے اثرات مرتب ہونگے اور پھر یہ اندیشے بھی لاحق ہیں کہ اس کے نتیجہ میں ر وزگار کی مارکٹ بھی متاثر ہوگی ۔
حکومت کو ان عوامل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جن کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ یہ پتہ چلایا جانا چاہئے کہ بیرونی کمپنیاں جو کبھی ہندوستان میں سرمایہ کاری کیلئے بڑھ چڑھ کر آگے آیا کرتی تھیں اب وہ یہاں سے سرمایہ نکاسی کیوں کر رہی ہیں اور کیوں یہ کمپنیاں دوسرے ممالک کا رخ کرنے لگی ہیں۔ اس صورتحال پر حکومت کو فوری توجہ کرتے ہوئے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور فوری ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن کے نتیجہ میں معیشت میں استحکام پیدا ہو ۔ حالات بہتری کی سمت واپس آئیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوسکے ۔ نئی بیرونی کمپنیوں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا جانا چاہئے ۔ صورتحال کو قابو میں کرنے کیلئے ابھی سے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ زیادہ تاخیر اگر کی جاتی ہے تو اس کے نتیجہ میں ہندوستانی معیشت پر منفی اثرات بھی زیادہ ہونگے ۔
جنوبی ریاستیں اور بی جے پی کے عزائم
ہندوستان کی بیشتر ریاستوں اور مرکز یں برسر اقتدار رہنے کے باوجود جنوبی ہندوستان اب بھی بی جے پی کیلئے مشکل مرحلہ بنا ہوا ہے ۔ جنوب میں بی جے پی کسی ریاست میں برسر اقتدار نہیں ہے ۔ کرناٹک میں اس کا اقتدار چھین لیا گیا ہے ۔ آندھرا پردیش میں وہ کچھ نشستوں کے ساتھ تلگودیشم حکومت میں حصہ دار ہے ۔ تلنگانہ میں اس کے چند ہی ارکان اسمبلی ہیں۔ ٹاملناڈو اور کیرالا میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے ۔ اس کے باوجود بی جے پی جنوبی ریاستوں میں اپنے قدم جمانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔ جنوبی ریاستوں ٹاملناڈو اورکیرالا میں رواں سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی ابھی سے ان کی تیاری کر رہی ہے ۔ مقامی سطح پر علاقائی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے علاوہ کئی اور پہلووں پر بھی کام کیا جا رہا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ بھی وقفہ وقفہ سے ان ریاستوں کا دورہ کرنے لگے ہیں۔ موجودہ ریاستی حکومتوںکو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی یا این ڈی اے کے اقتدار کے دعوے کرنے لگے ہیں۔ تاہم یہ دعوے محض انتخابی دعوے ہیں اور ان کو حقیقت کا روپ دینا فی الحال ممکن نہیں ہے ۔ جس طرح سے بی جے پی سارے ملک میں اپنی سیاسی اجارہ داری کو یقینی بناچکی ہے اور اسے مزید مستحکم کرنے کوشاں ہے اسی طرح جنوبی ہند میں اپنے قدم مضبوط کرنے کی حکمت عملی پر بھی عمل پیرا نظر آتی ہے تاہم اس کی یہ کوششیں آسان نہیں ہیں۔ جنوبی ہند کے عوام کا مزاج شمالی ہند کے عوام سے قدرے مختلف ہے اور وہ مقامی احساسات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بی جے پی نے اپنے طور پر کوششیں تو ضرور شروع کی ہیں تاہم اس کیلئے جنوبی ہند ’’ ہنوز دلی دور است ‘‘ ہی ہے ۔ آئندہ وقتوں میں بی جے پی اس تعلق سے کیا حکمت عملی احتیار کرتی ہے اس پر نظر رکھنا ضروری ہے ۔