مغربی بنگال میں ایک بار پھر سیاسی تشدد نے زور پکڑ لیا ہے ۔ ترنمول کانگریس کے ایک کارکن کو قتل کردیا گیا جس کے جواب میںترنمول کانگریس کے کارکنوںنے بڑے پیمانے پر تشدد برپا کردیا اور آٹھ افراد اس تشدد کا شکار ہوگئے ۔ آٹھ افراد کی موت کے علاوہ بھاری مالی نقصان بھی ہوا ہے اور آگ زنی کے واقعات پیش آئے ۔ یہ سارا کچھ سیاسی تشدد ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے تمام جماعتوں کو تشدد کا سہارا لینے کی روایت کو ترک کرنا ہوگا ۔ سیاسی تشدد سے جماعتوںکو تو کوئی خاص نقصان یا فائدہ نہیں ہوتا لیکن کئی گھر اجڑ جاتے ہیں۔ اس کے اثرات مہلوکین کی نسلوںپر مرتب ہوتے ہیں اور کئی خاندان مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جو مالی نقصان ہوا ہے وہ بھی کم نہیں ہے ۔ اس نقصان کا ازالہ بھی مشکل ہی ۔ اگر کسی طرح اس نقصان کا ازالہ ممکن ہو بھی جائے تب بھی جو جانی نقصان ہوا ہے وہ کسی قیمت پر پورا نہیں ہوسکتا ۔ بنگال میںسیاسی تشدد کی ایک روایت رہی ہے ۔ جس وقت ریاست میں بائیں بازو کی جماعتوں کا طویل اقتدار تھا اس وقت بھی ریاست میںتشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ ممتابنرجی کے چیف منسٹر بننے کے بعد پہلی معیاد میں حالات قدرے قابو میں نظر آئے تھے اور تشدد کے واقعات میں کمی ضرور آئی تھی ۔ تاہم ممتابنرجی کی دوسری معیاد کے دوسرے نصف میں ریاست کے حالات بگڑنے شروع ہوئے تھے اور بی جے پی نے اپنے سیاسی حلقہ اثر کو وسیع کرنے کیلئے کئی منصوبوں پر عمل کیا تھا ۔ کئی مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے تھے ۔ کہیں بی جے پی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا تو کہیں ترنمول کانگریس کے کارکن ہلاک اور زخمی ہوئے تھے ۔ ریاست میں پیش آنے والے دوسرے معمولی واقعات کا بھی استحصال کرتے ہوئے تشدد برپا کیا گیا تھا ۔ کئی سیاسی دفاتر کو نذر آتش کردیا گیا تھا اور کئی کارکن موت کے گھاٹ اتار دئے گئے تھے ۔ اس طرح کے واقعات کی ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں کوئی اجازت نہیں ہونی چاہئے ۔ ویسے بھی تشدد کسی بھی مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہوسکتا اور عوام کی تائید حاصل کرنے کے دوسرے طریقے ہونے چاہئیں۔
مغربی بنگال میں سیاسی حالات کو بد سے بدتر کرنے کیلئے سیاسی جماعتیں کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار نظر آتی ہیں۔ بی جے پی نے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے منصوبہ کے ساتھ گذشتہ برسوں میںریاست کے حالات کو بگاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ۔ ہر طرح سے سیاسی مقصد براری کی کوششیں کی گئیں۔ انتخابات میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے ریاست میں اقتدارحاصل کرنے کے خواب کی تکمیل نہیں ہوئی ۔ ممتابنرجی کو ریاست کے عوام نے لگاتار تیسری معیاد کیلئے حکومت حوالے کی ہے ۔ ممتابنرجی کو زبردست عوامی تائید حاصل ہوئی تھی اور ایسے میں ان کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ریاست میں نظم و قانون کی صورتحا ل کو قابو میں کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ بی جے پی سے سیاسی اختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن اس طرح کارکنوں کو نشانہ بنانا۔ موت کے گھاٹ اتار دینا یا آگ زنی کے واقعات پیش آنا یہ سارا کچھ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کے قابو میں نہ ہونے کی دلیل ہے ۔ اس کیلئے حکومت ہی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے یا تشدد پر اکسانے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت بری الذمہ نہیں ہوسکتی ۔ امن متاثر کرنے کی کوششیں کئی گوشوںسے ہوسکتی ہیں۔ ان عناصر کو اپنے عزائم میں کامیاب ہونے سے روکنا ہی حکومتوں کا فریضہ ہے ۔ امن و قانون کی صورتحال کو بہتر بناتے ہوئے ریات کے عوام کو ایک پرامن اور پرسکون ماحول فراہم کرنے میں حکومت کو سمجھتہ نہیں کرنا چاہئے ۔
جو واقعات مغربی بنگال کے بیر بھوم میں پیش آئے ہیں وہ انتہائی قابل مذمت ہیں۔ جو عناصر اس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں ان کو سیاسی وابستگی کا خیال کئے بغیر کیفر کردار تک پہونچانے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے تشدد کا سہارا لینے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ سیاسی اختلافات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے طریقے دوسرے بھی ہوسکتے ہیں اور ایسا کیا جاسکتا ہے ۔ سیاست کے نا م پر نظم و قانون کی صورتحال سے کھلواڑ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ تشدد کے ذمہ دار چاہے بی جے پی کارکن ہوں یا پھر ترنمول کانگریس کے کارکن ہوں سبھی کے خلاف سخت ترین کارروائی سے حکومت کو گریز نہیں کرنا چاہئے ۔۔
