یروشلم ۔29 جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایک سینر اسرائیلی وزیر نے چہارشنبہ کو ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتہ مغربی کنارہ کے بعض علاقوں کا الحاق کرنے کیلئے کابینی رائے دہی نہیں ہوگی جبکہ وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اس بات پر مصر تھے کہ اس پر جلد عمل آوری کی جائے کیونکہ امریکہ نے فلسطین کے لئے امن منصوبہ کا اعلان کیا ہے جسے فلسطینیوں نے یکسر مسترد کردیا ہے ۔ نیتن یاہو نے کہاکہ وہ کابینہ سے کہیں گے کہ اسرائیلی خود مختار کو مزید توسیع دیتے ہوئے وہ اسے یہودی آبادیوں اور حکمت عملی والی وادیٔ اُردن تک لے جائیں جس کے بارے میں ابھی سے یہ شکوک پائے جاتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو عالمی سطح پر اس کی شدت سے مذمت کی جائے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ کواس منصوبہ کے تحت عالمی سطح پر تائید حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا ۔ وزیر سیاحت اسرائیلی یاریولیوین نے اسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ سرحدات کے الحاق کے لئے کابینی رائے دہی جو اتوار کو منعقد شدنی ہے ، تکنیکی بنیادوں پر فی الحال نہیں کی جاسکتی کیونکہ اب بھی ہنوز کئی تیاریاں باقی ہیں جیسے کہ اس تجویز کو سب سے پہلے اٹارنی جنرل کو پیش کرنا ہے اور اس پر غور وخوض کیلئے انھیں مناسب وقت بھی دینا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ سخت گیر اسرائیلی شہری اس بات کے خواہاں ہیں کہ مغربی کنارہ کا جلد از جلد الحاق کرلیا جائے ۔