مفت اسکیمات ‘ روزگار اور سپریم کورٹ

   

خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا
مقام رنگ و بو کا راز پا جا
ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ملک بھر میں انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کی جانب سے مفت اسکیمات کے اعلان پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اعلانات کے نتیجہ میں عوام میں کاج کاج کا رجحان کم ہوگیا ہے اور مفت اسکیمات پر رقومات خرچ کرنے کے نتیجہ میں ترقیاتی کاموں کیلئے رقومات اور فنڈز دستیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ کچھ اسکیمات کیلئے تو ایک روپیہ بھی دستیاب نہیں ہو پا رہا ہے ۔ سپریم کورٹ کا یہ کہنا تھا کہ ریاستی حکومتوںکو چاہئے کہ وہ مفت کی اسکیمات کی بجائے روزگار کی فراہمی پر توجہ کریں۔ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی روزی روٹی مفت حاصل کرنے کی بجائے خود کما سکیں۔ ان میں عزت نفس کو برقرار رکھا جاسکے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں نے مفت کی اسکیمات کے اعلان کو ایک طرح کی روایت بنادیا ہے جس کے نتیجہ میں انہیں اقتدار حاصل ہونے لگا ہے ۔ وہ اقتدار کے مزے لوٹنے کیلئے عوام کو کچھ مفت سہولیات فراہم کرتے لگے ہیں۔ بہت کم مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنے کئے ہوئے وعدوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اس بات کا انداز ہوگیا ہے کہ محض دکھاوے کے کچھ اقدامات کئے جائیں تو ہم کے ذہنوں پر اثر انداز ہوا جاسکتا ہے اور ان کو راغب کرتے ہوئے ووٹ حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اقتدار ملنے کے بعد حکومتیں کسی کو جوابدہی کے احساس سے بھی عاری ہوگئی ہیں ۔ ان میں اس بات کا کوئی لحاظ نہیںرہ گیا ہے کہ وہ ملک کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ وہ عوام کو مختلف مسائل میں الجھاتے ہوئے عوام کو بیوقوف بنا رہی ہیں اور اپنے مفادات کی تکمیل میں جٹی ہوئی ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس نے ملک میں انتخابی نظام کی اہمیت کو ہی متاثر کرکے رکھ دیا ہے ۔ حکومتوں میں کارکردگی دکھانے کا جذبہ ہی ختم ہونے لگا ہے اور وہ سمجھ رہی ہیں کہ کچھ مفت کی اسکیمات کا اعلان کردیا جائے ‘ انتخابات کے موقع پر کچھ رقومات بینک کھاتوں میں منتقل کردی جائیں تو پھر انہیں کامیابی سے کوئی روکنے والا نہیں ہوگا ۔
ملک میں کئی ریاستی حکومتیں اور خود مرکزی حکومت ایسی ہے جس نے عوام کے ساتھ بے شمار وعدے کئے تھے ۔ پندرہ لاکھ روپئے عوام کے کھاتوں میں آنے تھے ‘ ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جانا تھا ‘ بیرونی ممالک سے کالا دھن ہندوستان واپس لانا تھا ‘ پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں 35 روپئے فی لیٹر کے آس پاس ہونی تھیں تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ سب کچھ اس کے برخلاف ہوا ہے ۔ مرکزی حکومت کے ہاتھ میں گودی میڈیا کے چینلس ہیں اور کرایہ کے ٹٹو ان پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ٹی وی چینلس بھی اب حکومت کو اشاروں پر نچانے والے کارپوریٹس خرید چکے ہیں تو مرکزی حکومت اس معاملے میں بے فکر دکھائی دیتی ہے ۔ کئی ریاستوں میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو ریاستی حکومتیں فراموش کرچکی ہیں۔ حکومتوں کو اب عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رہ گئی ہے ۔ وہ صرف اقتدار پر برقراری کو ترجیح دے رہی ہیں اور انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ عوام کیلئے کچھ بھی کرنے کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے اور وہ صرف وقتی فوائد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ پانچ سال کی مدت کے دوران عوام پر مسلسل مہنگائی اور ٹیکس کا بوجھ عائد کرتے ہوئے انہیں لوٹا جاتا ہے اور پھر انتخابات سے قبل ان ہی سے لوٹی گئی رقم سے کچھ رقومات بینک کھاتوں میں منتقل کردی جائیں تو کامیابی یقینی دکھانے دینے لگتی ہے ۔ اس صورتحال ملک کے سیاسی اور انتخابی نظام کو ہی درہم برہم بلکہ پراگندہ کرکے رکھ دیا ہے اور اس کو تبدیل کرنا ضروری ہے ۔
ملک کی سب سے بڑی عدالت نے جس رائے کا اظہار کیا ہے وہ بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ جو صورتحال ملک میں مفت کی اسکیمات کی وجہ سے پیدا ہونے لگی ہے اس سے ملک کی جمہوریت بھی داغدار ہو رہی ہے ۔ عوام اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کا درست استعمال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ کچھ فائدہ چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اسی صورتحال کا خود فائدہ اٹھا رہی ہیں اور عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔ اس صورتحال میں ملک کے عوام ‘ سیاسی جماعتوںا ور سیاسی قائدین کو خود بدلنا ہوگا اور انہیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی بدعنوانیاں ملک کی جمہوریت کو داغدار کر رہی ہیں جو ملک کے مفاد میں نہیں ہوسکتا ۔