چنئی، 10 مئی (یو این آئی) تمل ناڈو کے 13 ویں وزیر اعلی کے طور پر حلف لینے کے فورا بعد تمل ناڈو کے وزیر اعلی سی جوزف وجے نے اتوار کو تین اہم فائلوں پر دستخط کردیے ۔ ان میں ہر دو ماہ میؓں 200 یونٹ تک مفت بجلی، خواتین کی حفاظت کے لیے خصوصی ‘سنگاپین’ ریپڈ رسپانس فورس کی تشکیل اور ریاست بھر میں انسداد منشیات یونٹس کا قیام شامل ہے ۔ وجے نے عوام کے سامنے اسٹیج پر ان تینوں احکامات پر دستخط کئے ۔ مقامی جواہر لعل نہرو ملٹی پرپز انڈور اسٹیڈیم میں کابینہ کے نو وزراء کے ساتھ حلف لینے کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ حکومتوں کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ پچھلی دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے ) حکومت نے سرکاری خزانے کو “خالی” چھوڑ دیا ہے ، جس سے اگلی حکومت پر بہت زیادہ بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے ۔ ریاست کے مالیات پر ایک قرطاس ابیض جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وجے نے کہا کہ انہیں نظام میں اصلاحات اور انتظامیہ کو قدم بہ قدم مستحکم کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستاویز شفاف طریقے سے اس مالی صورت حال کا خاکہ پیش کرے گی، جو انہیں ورثے میں ملی تھی۔ وزیر اعلی نے الزام لگایا کہ ریاست تقریباً 10 لاکھ کروڑ روپے کے قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے اشارہ کیا کہ وہائٹ پیپر میں ریاست کی آمدنی، اخراجات، قرض کی سطح اور بقایا واجبات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ شفاف حکمرانی کا وعدہ کرتے ہوئے وجے نے کہاکہ “مجھے معاملات کو درست کرنے اور انتظامیہ کو مستحکم کرنے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔ میں کوئی فرشتہ نہیں ہوں… میں آپ ہی میں سے ایک ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اب سیکولر سماجی انصاف کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے اور وہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے کے لیے فوری طور پر کام شروع کریں گے ۔