سوا تمہارے ہمارا ہے کون محرمِ راز
ہمارا حال ہے جو بھی تمہیں پہ روشن ہے
مفت پینے کا پانی
حیدرآباد میں جنوری سے پینے کا پانی مفت سربراہ کرنے کا منصوبہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی پارٹی کو عوام کی ہمدردی حاصل کرنے میں مددگار ہوگا یا نہیں یہ تو آنے والے دنوں میں معلوم ہوگا ۔ جی ایچ ایم سی انتخابات سے قبل حکمراں ٹی آر ایس نے دونوں شہروں کی سلم بستیوں اور دیگر علاقوں میں جہاں 20 ہزار لیٹر پانی کا استعمال ہوتا ہے وہاں مفت پانی سربراہ کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ یہ وعدہ اور منصوبہ کتنے دن تک کار آمد رہے گا ۔ یہ غور طلب ہے ۔ موسم گرما میں عوام کو معمول کے مطابق پانی ملنا مشکل ہوتا ہے ۔ میونسپل اڈمنسٹریشن اینڈ اربن ڈیولپمنٹ وزیر کے ٹی راما راؤ نے یہ عزم کرلیا ہے کہ حیدرآباد میں مفت پینے کے پانی کی سربراہی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت کے مطابق 20 ہزار لیٹرس تک پانی استعمال کرنے والوں سے کوئی رقم نہیں لی جائے گی ۔ اس سے شہر کے تقریبا 9.84 لاکھ گھروں کو فائدہ ہوگا ۔ بلدی انتخابات سے قبل کئے گئے اس وعدہ سے حکمراں ٹی آر ایس کو خاص فائدہ نہیں ہوا کیوں کہ مفت پانی کی سربراہی کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس سے صرف سلم بستیوں میں رہنے والے افراد ہی استفادہ کرسکیں گے ۔ بڑے اپارٹمنٹس اور دیگر عمارتوں میں رہنے والے شہریوں کو اس اسکیم کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ اس لیے جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس کو ووٹ دینے والوں کا فیصد کم ہوگیا ۔ شہر میں تقریبا 6000 اپارٹمنٹس ایسے ہیں جہاں ایک اپارٹمنٹ میں 1000 فلیٹس ہیں ۔ ان میں رہنے والے شہریوں کو محکمہ آبرسانی سے سربراہ ہونے والا پانی ناکافی ہوتا ہے ۔ حکومت نے مفت پانی کی سربراہی کا وعدہ جس غرض سے کیا تھا ۔ اس کا فائدہ حاصل نہیں ہوسکا ۔ نتیجہ میں جی ایچ ایم سی کی کئی نشستیں بی جے پی کی جھولی میں چلی گئیں ۔ کے سی آر کی بعض پالیسیاں راست طور پر عوام کو راحت پہونچانے میں ناکام رہی ہیں ۔ ڈبل بیڈ روم کے مکانات کا الاٹمنٹ ہو یا دیگر اسکیمات جیسے اسکالر شپ ، اقلیتی فینانس ، شادی اسکیمات ، کلیان لکشمی اسکیم کئی دنوں سے تعطل کا شکار ہیں ۔ ایسے میں کے چندر شیکھر راؤ کو یہ زعم ہے کہ وہ عوام سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے تو اس خام خیالی کی وجہہ سے انہیں جی ایچ ایم سی انتخابات میں توقع کے برعکس نتائج کا سامنا کرنا پڑا ۔ شہر میں زیادہ تر متوسط طبقہ اور اعلیٰ طبقہ بھی رہتا ہے ۔ مفت پانی کی سربراہی اسکیم کا ان دونوں طبقات کو فائدہ نہیں ملے گا ۔ اس لیے ٹی آر ایس کے ووٹ فیصد پر اس کا شدید اثر پڑا ہے ۔ محکمہ آبرسانی کے 4 لاکھ صارفین اپارٹمنٹس ، فلیٹس اور گٹیڈ کمیونیٹیز میں رہتے ہیں ۔ ان تک پینے کا پانی معمول کے مطابق نہیں پہونچتا تو مفت پانی کی سربراہی کی اسکیم کا کوئی فائدہ ہی نہیں ملے گا ۔ اگر حکومت ہر شہری کو خاطر خواہ پانی سربراہ کرنے کو یقینی بنائے تو عوام کو بڑی راحت ملے گی ۔ حکومت نے بہت پہلے وعدہ کیا تھا کہ وہ روزانہ پانی سربراہ کرے گی ۔ لیکن ایک عرصہ گذر چکا ہے ۔ روزانہ پینے کے پانی کی سربراہی کا وعدہ پورا نہیں ہوا ۔ شہریوں کو پینے کے پانی کے علاوہ دیگر مسائل بھی درپیش ہیں ۔ محکمہ آبرسانی پانی کے بلوں کے ساتھ ڈرینج کے بل بھی وصول کرتا ہے لیکن شہری ہر روز کہیں ابلتی ہوئی ڈرینج اور کہیں بند ڈرینج کے مسائل سے پریشان رہتے ہیں ۔ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے علاوہ ایک بہتر نظم و نسق فراہم کرے ۔ صاف ستھرا ماحول ، گندگی سے پاک سڑکیں ، محلے ، بستیاں ہوں اور رات کو روشنی کا موثر انتظام ہی شہریوں میں حکومت کے تعلق سے ہمدردی پیدا کرتا ہے ۔۔