مقبرہ کلیان نواب افسوسناک حالت میں

   

مغل پورہ میں 221 سالہ قدیم تاریخی عمارت پر فوری توجہ کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 11 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : شہر کے علاقہ مغل پورہ میں واقع 221 سالہ قدیم مقبرہ کلیان نواب جسے قطب شاہی کلیانی قبرستان بھی کہا جاتا ہے ، عہدیداروں کی بے اعتنائی کے باعث نظر انداز کردہ حالت میں ہے ۔ اس عمارت کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ ہیری ٹیج کے کئی جہد کاروں اور مقامی افراد نے ریاستی حکومت کی جانب سے اس تاریخی مقبرہ پر توجہ نہ دئیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ 4 ایکڑ پر واقع اس مقبرہ کو فی الوقت کئی چیالنجس کا سامنا ہے ۔ اس کی تقریبا 50 فیصد خالی اراضی پر قبضے ہوگئے ہیں اور اس عمارت کی تعمیراتی خوبصورتی بتدریج ختم ہورہی ہے ۔ ہیرٹیج جہدکار محمد حسیب احمد نے کہا کہ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب ریاستی حکومت اور آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے شہر میں کئی قدیم عمارتوں کو بحال کیا جارہا ہے تو پھر وہ اس تاریخی عمارت کو کیوں نظر انداز کررہے ہیں ؟ مقبرہ کلیان نواب کا اندرونی حصہ گنبدان پائیگاہ کے اندرونی حصوں جیسا دکھائی دیتا ہے ۔ اس عمارت کو بحال کرنے سے آئندہ نسل کے لیے تاریخ زندہ رہے گی اور موجودہ نسل تاریخ سے واقف ہوگی ۔ مغل پورہ کے ساکن محمد علی نے کہا کہ ’ اس قدیم عمارت پر فوری توجہ دیتے ہوئے اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم مقامی لوگوں نے اس عمارت کی مرمت اور تزئین نو کرنے کے لیے متعلقہ عہدیداروں کو کئی مرتبہ توجہ دلایا ہے لیکن اس سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے چونکہ اس مقبرہ کی اراضی پر ناجائز قبضے کئے گئے ہیں بمشکل 2 ایکر اراضی بچ گئی ہے ۔ اس قدیم عمارت پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ‘ ۔
مقبرہ کی مختصر تاریخ
کلیانی نواب کلیانی ، بیدر سے حیدرآباد آئے تھے ۔ ان کی قیام گاہ کلیانی نواب کی دیوڑھی تھی جب ان کا انتقال ہوا تو انہیں اسی قیام گاہ میں دفن کیا گیا ۔ اس لیے یہ مقام مقبرہ کلیانی نواب سے مشہور ہوگیا ۔ نظام دور حکومت میں بسواکلیان کا دفاع تفویض کردہ نوابس حیدرآباد منتقل ہوئے تھے ۔ کلیان نوابوں میں ایک نواب غضنفر جنگ نے حیدرآباد کے تیسرے نظام ، آصف جاہ سوم کی دوسری دختر صاحبزادی کمال النساء بیگم سے شادی کی اور یہ جوڑا 1802 میں مغل پورہ میں ان کی قیام گاہ قائم کیا تھا ۔ کلیانی نواب کا مقبرہ ایک رنگین ٹائیل ورک ہے ۔۔