کچھ تو ایسے بھی تقاضے تھے غمِ دل کے مرے
تیرے آغوش میں رہ کر میں پریشاں ہی رہا
ملک بھر میں کورونا وباء کی وجہ سے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ کورونا بحران کے نتیجہ میں جو لاک ڈاون لاگو کیا گیا تھا اس نے ساری معیشت کو ٹھپ کرکے رکھ دیا تھا ۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں تھا جس پرا س کے اثرات مرتب نہیں ہوئے تھے تاہم سب سے زیادہ متاثر ملازمتوں کا شعبہ رہا تھا جس کے نتیجہ میںہزاروں یا لاکھوں نہیں بلکہ کر وڑہا افراد اپنی نوکریوںا ور ملازمتوں سے محروم ہوگئے تھے ۔ کچھ شعبے ایسے بھی رہے جہاں ملازمتوں میں تخفیف کرتے ہوئے ملازمین کو روزگار سے محروم کردیا گیا ۔ آج ہندوستان بھر میں صورتحال یہ ہے کہ ہر شعبہ میں ملازمین کو نکالا جا رہا ہے اور ملازمتیں گھٹائی جا رہی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں کئی خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ لاکھوں افراد کو کئی اہم شعبہ جات سے ملازمتوں سے نکال دیا گیا ہے ۔ یہ لوگ متبادل ملازمت کی تلاش میں تو ہیں لیکن ان کیلئے کوئی مواقع دستیاب نظر نہیں آتے ۔ خانگی شعبہ جات کے علاوہ سرکاری ملازمتیں تو ایک طرح سے بند ہی کردی گئی ہیں۔ ریاستی سطح پر کچھ حکومتوں کی جانب سے بھرتیاں ہو بھی رہی ہیں لیکن یہ بھی توقعات یا ضرورت کے مطابق نہیں ہیں۔ کئی ریاستوں میںباضابطہ تقررات کرنے کی بجائے آوٹ سورسنگ یا کنٹراکٹ ملازمین کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے ۔ اس طرح ملازمین کا مستقبل محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی انہیںدیگر مراعات کا ملنا ممکن رہ گیا ہے ۔ کئی سرکاری کمپنیوں کو مرکزی حکومت نے تو خانگی اداروں کے حوالے کردیا ہے ۔ انہیں فروخت کردیا گیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں وہاں بھی ملازمین کو قبل از وقت سبکدوشی اسکیمات دیتے ہوئے چلتا کردیا گیا ہے ۔ ان اداروں میں اب نئے تقررات کا تو سوال ہی نظر نہیں آ رہا ہے ۔ صنعتی شعبہ جات اور انڈسٹریز میں بھی ملازمتوں کی تعداد میں تخفیف کی گئی ہے ۔ وہاں بھی کم سے کم ملازمین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پیداوار کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں بیروزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہی درج کیا جا رہا ہے اور اس کے گھریلو معیشت پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عوام کو روز مرہ کی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
کورونا کی دوسری لہر کے ختم ہونے یا پھر اس کا اثر کم سے کم ہونے کے بعد یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ معاشی سرگرمیاں بتدریج بحال ہو رہی ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں کا احیاء عمل میں آنے لگا ہے ۔ صنعتوںا ور کارخانوں میں کام کاج شروع کردیا گیا ہے ۔ تاہم تشویش کی بات یہ ہے کہ مینو فیکچرنگ کے شعبہ میںسرگرمیاں پوری رطح سے بحال ہونے اور پیداوار میں بتدریج اضافہ کے باوجود ملازمتوں کا مسئلہ برقرار ہے ۔ اس شعبہ میں ملازمین کی تعداد کو بحال کرنے پر کوئی توجہ نہںیدی جا رہی ہے اور نہ ہی انہیںکوئی راحت دی جا رہی ہے ۔ جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں پیادوار کا عمل بہتر ہوا ہے ۔ کئی اداروں اور کمپنیوں میں آمدنی بھی بہتر ہونے لگی ہے ۔ انہیں نئے آرڈر مل رہے ہیں۔ ان کی پیاداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے یہ بہتری آتی جا رہی ہے اس کے باوجود ملازمین کی تعداد کے معاملہ میں انحطاط برقرار ہے ۔ جن ملازمین کو لاک ڈاون وغیرہ سے قبل ملازمت سے محروم کردیا گیا تھا آج بھی انہیں ملازمت پر بحال نہیں کیا جا رہا ہے ۔ کم سے کم ملازمین سے زیادہ سے زیادہ پیداوار کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے کمپنیاں اپنے مفادات کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے ۔ نقصانات کی پابجائی کے نام پرملازمین کو بحال کرنے سے عمدا گریز کیا جا رہا ہے اور کئی شعبہ جات تو ایسے بھی ہیں جہاں باضابطہ طور پر یہ طئے کردیا گیا ہے کہ اب نئے تقررات عمل میں نہیں لائے جائیں گے ۔
موجودہ صورتحال تشویشناک کہی جاسکتی ہے کیونکہ اگر ملازمتیں اور روزگار بحال نہیں ہونگے تو عوام کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائیگا ۔ عوام کو پہلے ہی مہنگائی کی مار سہنی پڑ رہی ہے ۔ ہر شئے کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ دالیں 200 روپئے فی کیلو سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔ خوردنی تیل 200 روپئے فی کیلو کو پار کر گیا ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا مسئلہ ہی عوام کی پہونچ سے باہر ہوگیا ہے ۔ ایسے میں حکومتوں کو ملازمتوں کے معاملے میں ایک جامع حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے ۔ ہر شعبہ کیلئے رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے ملازمین کی بحالی کا عمل شروع کیا جانا چاہئے ۔ ملازمین کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے ہدایات جاری کی جانی چاہئے تاکہ نوجوانوں کیلئے بھی مواقع دستیاب ہوسکیں۔
