ملازمین کی تنخواہوں میںکٹوتی لیکن کنٹراکٹرس کو ادائیگیاں!

   

حیدرآباد۔11جون(سیاست نیوز) ملازمین کو مکمل تنخواہ سے زیادہ اہمیت کنٹراکٹرس کی ادائیگی کی ہے! حکومت کی جانب سے کنٹراکٹرس کو ادائیگیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جا رہی ہے۔ حکومت لاک ڈاؤن کے بعد نقصانات سے نمٹنے کے اقدامات کے طو ر پر ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کررہی ہے کیونکہ آمدنی میں گراوٹ کے سبب خزانہ خالی ہونے لگا تھا۔ حکومت کے فیصلہ پر ملازمین کی جانب سے کوئی شدید ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا کیونکہ کہا جا رہاتھا کہ تنخواہوں کی کٹوتی کے ذریعہ ریاست میں کورونا کے بہتر علاج کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی لیکن ریاست میں کورونا کے علاج کیلئے رجوع ہونے والے مریضوں کی صورتحال کو دیکھنے اور ریاست میں کورونا معائنوں میں کوتاہیوں کا جائزہ لینے کے بعد تنخواہ اور وظائف میں کٹوتی کے باوجود خاموش ملازمین میں برہمی پیدا ہونے لگی ہے ۔ حکومت کی جانب سے جس مقصد کیلئے کٹوتی کی جا رہی تھی اس پر خرچ نہ کرنے سے صورتحال سنگین ہونے لگی ہے۔ شہر میں روزانہ کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ سے نمٹنے کی بجائے حکومت سے کنٹراکٹرس کے بقایاجات کی ادائیگی عمل میں لائی جانے لگی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے گذشتہ ہفتہ محکمہ برقی کے کنٹراکٹرس کو ادائیگیوں کیلئے 200 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ اسی طرح شہر میں لاک ڈاؤن کے دوران سڑکوں کی مرمت اور تعمیر کے کاموں کیلئے بھی کروڑوں روپئے خرچ کرنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کنٹراکٹرس کو ادائیگیوں پر ملازمین میں ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ملازمین سے کو ادائیگی سے زیادہ کنٹراکٹرس کے بقایاجات اور نئے کاموں کی منظوری پر توجہ دی جا رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان کنٹراکٹرس کو ادائیگی کر رہی ہے جو لازمی خدمات انجام دے رہے ہیں اور انکی خدمات ناگزیر ہیں علاوہ ازیں جن کے طویل مدت سے بقایاجات ہیں ان کی ادائیگی کے ذریعہ مزدوروں کو راحت پہنچانے کی پالیسی کے تحت ادائیگی کی جا رہی ہے ۔