سدی پیٹ میں اُردو دانی امتحانات کے اسناد کی تقسیم، قاضی ظہیرالدین اور کلیم الرحمن کا خطاب
سدی پیٹ۔ یکم؍دسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ ادارہ ادبیات اردو حیدرآباد پنجہ گٹہ اور عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ زبان دانی، اردو دانی اور اردو انشاء امتحانات کے اسنادات جو مکتبہ سیدہ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ سدی پیٹ کے زیر نگرانی منعقد ہوئے تھے گورنمنٹ ہائی اسکول اردو میڈیم ناصر پورہ سدی پیٹ میں اسنادات کی اجرائی عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کلیم الرحمن اسٹاف رپورٹر سیاست نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زاہد علی خاں و عامر علی خان صاحب کے فلاحی کاموں کا ثمرہ ہے کہ اردو زبان اس تعصب کے دور میں بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ عامر علی خان صاحب نے ملت کی فلاح و بہبودی کیلئے جو اقدامات اٹھائے ہیں اسکی مثال سیاسی تاریخ میں اب تک نہیں ملتی جنہوں نے ملت فنڈ کیلئے 20 لاکھ کا عطیہ دیکر مثال قائم کردی۔ کلیم الرحمن نے طلباء سے مخاطب ہوکر کہا کہ بچوں کی دعائیں بااثر ہوتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے عامر علی خان صاحب کو قانون ساز کونسل کی رکنیت سے نوازا گیا ہے انہوں نے طلباء سے خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عامر علی خان صاحب کے حق میں دعا کریں کہ رب قدیر عامر علی خان صاحب کو ریاستی کابینہ میں شامل کردے تاکہ قوم و ملت کے امور کو آسانی کے ساتھ حل کرنے کا موقع مل سکے۔ اعزازی مہمان صدر قاضی محمد ظہیر الدین بابر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ ادبیات اردو اور عابد علی خان ٹرسٹ کی جانب سے منعقد شدہ امتحانات میں طلبہ کی امتیازی حیثیت سے کامیابی اور اس کامیابی پر سند کا حاصل کرنا قابل مسرت عمل ہے۔ انہوں نے روزنامہ سیاست کے کارناموں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جہاں صاحب حیثیت افراد اپنی خوشحال زندگی میں مگن رہتے ہیں وہیں روزنامہ سیاست کی جانب سے غربا کی زندگیوں میں جھانک کر درد بھری زندگی میں خوشیاں بکھیرنے کا کام روزنامہ سیاست کے ذریعے انجام پارہا ہے۔ اعزازی مہمان محترمہ عرشیہ سلطانہ بنت میمونہ آپا مدرس گرلز ہائی اسکول سدی پیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو زبان ایک لشکری زبان ہے جو ہندی اور اردو کے اشتراک سے وجود میں آئی جس کے بول ہندی کے اور رسم الخط اردو کے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ ادبیات اردو کے امتحانات کے اسنادات کی بدولت آج وہ برسرِ روزگار ہیں۔ عائشہ متین چیرپرسن مکتبہ سیدہ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ نے نظامت کے فرائض ادا کئے۔ اور عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ، ادارہ ادبیات اردو حیدرآباد سے اظہار تشکر کیا۔ اس موقع پر کلیم الرحمن مہمان خصوصی کے ہاتھوں اسنادات کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ تقریب میں محترمہ خدیجہ ظہور، محترمہ ریحانہ، اولیائے طلباء بھی موجود تھے۔ عائشہ کاکل کے شکریہ پر تقریب اختتام کو پہنچی۔