ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے اثرات اب تقریبا ساری دنیا پر مرتب ہونے شروع ہوگئے ہیں ۔ان کے اثرات ہندوستان پر بھی شدت کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ کئی دوسرے ممالک میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے اور کچھ ملکوں میں اضافہ کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں پٹرول کی قلت کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کیلئے فی الحال کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم ہندوستان میں گیس کی سپلائی ایک مسئلہ بن گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ملک میں گیس کی قلت پیدا ہونے لگی ہے ۔ وسط ایشیاء کے حالات کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوئے ہے ۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہاموں کی آمد و رفت پر روک لگادی ہے جس کے نتیجہ میں سپلائی پر برا اثر پڑا ہے ۔ حالانکہ ہندوستان دیگر ذرائع سے بھی پٹرولیم اشیاء حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ اشیاء حاصل بھی کی جا رہی ہیں تاہم گیس کے معاملے میں صورتحال قابل تشویش بنی ہوئی ہے ۔ ملک کے کئی شہروں میں کمرشیل گیس کی سپلائی متاثر ہوچکی ہے ۔ کئی شہروں میں تجارتی اداروں کو گیس کی سپلائی یا تو کم ہوگئی ہے یا روک دی گئی ہے ۔ کئی بڑے اداروں اور خاص طور پر ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کیلئے صورتحال مشکل ہوگئی ہے ۔ اس جانب توجہ کرتے ہوئے کوئی ایسی راہ نکالنے کی ضرورت ہے کہ ملک بھر میں گیس کی سپلائی اس کی طلب کے مطابق ممکن ہوسکے ۔ گیس کی قلت کی وجہ سے تجارتیں متاثر ہونے لگی ہیں اور خاص طور پر ہوٹل انڈسٹری پرا س کے سب سے پہلے اور زیادہ شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہوٹلوں میں گیس کی سپلائی کم ہونے سے ان کی سرگرمیوں پر اثر ہوا ہے اور اس کے نتیجہ میں کئی دوسرے امور پر منفی اثر ہونے کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہندوستان جو مختلف ممالک سے گیس اور دیگر اشیاء حاصل کرتا ہے وہاں سے معمول کے مطابق سپلائی نہیں ہو پا رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سپلائی متاثر ہونے لگی ہے ۔ آئندہ چند دن تک یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو پھر اس کے زندگی کے کئی شعبوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
جس طرح سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح سے گیس کی قلت کے نتیجہ میں کئی افراد کے روزگار متاثر ہونے کے اندیشے لاحق ہوجاتے ہیں۔ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے علاوہ ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں کلاؤڈ کچن ہیں جہاں سے تیار غذاء سپلائی جاتی ہے۔ اگر ان تمام تجارتی مراکز کو بھی سپلائی متاثر ہوجائے تو آن لائین آرڈرس متاثر ہونگے ۔ آن لائین آرڈرس کے مطابق سپلائی نہ ہو پائے تو پھر ڈیلیوری سروسیس انجام دینے والے افراد روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں۔ ان کی آمدنی کم ہوسکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ کچھ وقت تک ان کی سرگرمیاں بالکل ہی ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔ یہ مسئلہ صرف ہوٹلوں یا ریسٹورنٹس یا دیگر تجارتی اداروں تک محدود نہیں ہے ۔ اس سے ملک کے لاکھوں کروڑوں افراد کے روزگار اور آمدنی کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے ۔ جس طرح سے کمرشیل گیس کی قیمتوں میں من مانی اضافہ بھی کیا جا رہا ہے اور بلیک مارکٹنگ کی جا رہی ہے اس کو بھی روکنے کی ضرورت ہے ۔ اس جانب توجہ دیتے ہوئے بڑی حد تک مسئلہ کو سنگین بننے سے روکا جاسکتا ہے ۔ ذخیرہ اندوزی کرتے ہوئے بلیک مارکٹنگ پر توجہ دی جا رہی ہے اور نفع خوری ہونے لگی ہے ۔ یہ اپنے ہی ملک کے عوام کا استحصال کرنے کے مترادف ہے جو کچھ خانگی گیس کمپنیاں کرنے لگی ہیں۔ حکومت کو اس صورتحال کا بھی سخت نوٹ لیتی ہوئے کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
ہندوستان اپنی پٹرولیم اشیاء اور گیس کی ضروریات کا بڑا حصہ دوسرے ممالک سے حاصل کرتا ہے ۔ عالمی سطح پر پیش آنے والے حالات سپلائی چین پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم اندرون ملک جو صورتحال پیدا ہونے لگی ہے وہ قابل تشویش ہے ۔ اس صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کو گیس کی درآمدات کو یقینی بنننے کیلئے فوری کوئی ہنگامی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اندرون ملک کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی کو بھی روکنا چاہئے اور جتنا ممکن ہوسکے سپلائی کو بہتر بنائے رکھنے پر توجہ کرنا چاہئے ۔ کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے نفع خوروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جانی چاہئے ۔