قومی قائدین کی شرکت‘نفرت کے خاتمہ اورمذہبی رواداری کی ضرورت پر زور ، چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔/18 جنوری، ( سیاست نیوز) ملک میں سیاسی تبدیلی کے نعرہ کیساتھ بھارت راشٹرا سمیتی ( بی آر ایس ) کی سرگرمیوں کا کھمم میں ایک بڑے جلسہ عام سے آج آغاز ہوا۔ قومی قائدین کی موجودگی میں بی آر ایس کے سربراہ چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ کھمم کا جلسہ عام قومی سطح پر عوامی تبدیلی کا ثبوت ہے۔ بی آر ایس کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ پارٹی نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ کھمم جلسہ عام میں ریکارڈ تعداد میں عوام نے شرکت کی اور اس جلسہ کی کامیابی میں بائیں بازو جماعتوں کا اہم رول رہا ہے۔ تین ریاستوں کے چیف منسٹرس اروند کجریوال، بھگونت مان، پی وجین، سابق چیف منسٹر اتر پردیش اکھلیش یادو اور سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری ڈی راجا کے علاوہ مختلف کسان تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس تاریخی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ہندوستان میں ترقی اور فلاح و بہبود کے نئے دور کے آغاز کے مقصد سے بی آر ایس قائم کی گئی ہے۔ کھمم کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا جلسہ ہے جو ملک میں عوامی تبدیلی کا مظہر ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ ہندوستان وسائل کے اعتبار سے ایک دولت مند ملک ہے۔ آبی وسائل کے علاوہ قدرتی اور معدنی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہندوستان میں 70 ہزار ٹی ایم سی پانی دستیاب ہے لیکن ہم صرف 20 ہزار ٹی ایم سی پانی استعمال کررہے ہیں۔ چینائی میں ایک بکیٹ پانی کیلئے عوام میں تصادم ہورہا ہے۔ چینائی میں 5 ہزار ٹی ایم سی کی گنجائش والا ذخیرہ آب موجود ہے۔ ریاستوں کے درمیان پانی کیلئے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے کہاکہ دریاؤں کو مربوط کرتے ہوئے پانی کا بہتر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ر
(سلسلہ صفحہ8 پر )