ملک میں تشدد کا ماحول

   

Ferty9 Clinic

غم دل کی زباں اہل تشدد کم سمجھتے ہیں
نہ دل کو دل سمجھتے ہیں نہ غم کو غم سمجھتے ہیں
ملک میں تشدد کا ماحول
گذشتہ سات آٹھ برسوں سے ملک میں ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جن کی ماضی میں کوئی نظیر شائد ہی مل پائے ۔ جو واقعات کئی دہوں میں نہیں ہو پائے تھے وہ اب پیش آ رہے ہیں۔ کہیں کسی کو گاوں میں داخلہ سے روکا جا رہا ہے تو کہیں کسی کو مارپیٹ کرتے ہوئے کاروبار کرنے نہیں دیا جا رہا ہے ۔ کہیں کسی کے گرد حاشیہ تنگ کیا جا رہا ہے تو کہیں کسی کا سماجی ومعاشی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے ۔ ان سارے واقعات کا نشانہ مسلمان اور اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد بنائے جا رہے ہیں۔ کہیں نماز پڑھنے پر تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے تو کہیں عیسائیوں کے گرجا گھر میں توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے ۔ کہیں اذانیں دینے پر کسی کو تکلیف ہے تو کہیں خیراتی و امدادی کام کرنے والوں پ اعتراض کرتے ہوئے انہیں بھی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کہیں معمولی سی بات پر فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دی جا رہی ہے تو کہیں انتہائی زہرآلود ریمارکس کرتے ہوئے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضاء کو پراگندہ کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف جو ریمارکس کئے جا رہے ہیں وہ انتہائی اشتعال انگیز ہیں۔ کہیں دھرم سنسد کے نام پر دہشت گردی کی جا رہی ہے ۔ مسلمانوں کی نسل کشی کیلئے ہندووں کو راغب کیا جا رہا ہے ۔ انہیں ہتھیار جمع کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے ۔ سارا کچھ ہو رہا ہے لیکن حکومتیں اس پر بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ اپنی خاموشی کے ذریعہ بالواسطہ طور پر وہ ایسی حرکتوں کی حوصلہ افزائی و پشت پناہی کر رہی ہیں۔ اسی مسئلہ کو چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوٹ نے آج ایک اجلاس میں اٹھایا جس میں خود وزیر اعظم نریندرمودی بھی شریک تھے ۔ گہلوٹ کا کہنا تھا کہ ملک میں کشیدگی کا اور تشدد کا ماحول ہے ۔ اس ماحول کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور امن و سکون کی فضاء قائم کی جانی چاہئے ۔ ملک کو مذہبی جنون کی بجائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و ترقی کی راہ پر لیجانے کی ضرورت ہے ۔ جب تک ملک میں امن و سکون کو بحال نہیں کیا جاتا اور مذہبی جنونیت کا شکار پراگندہ ذہنوں پر لگام نہیں کسی جاتی اس وقت تک ملک میں ترقی کا سفر سہل اور آسان ہرگز نہیں ہوسکتا ۔
آزادی کے امرت مہاتسو سے سورنم بھارت کی اور نامی پروگرام کے آغاز کے موقع پر اشوک گہلوٹ نے یہ بات کہی ۔ چیف منسٹر راجستھان نے وزیر اعظم کی موجودگی میں یہ بات کہی ہے اور انہوں نے اس موقع کا بہتر استعمال کرتے ہوئے حقیقی صورتحال سے وزیر اعظم کو واقف کروانے کی کوشش کی ہے لیکن وزیر اعظم مودی نے حسب روایت اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کرنے ہی میں عافیت جانی اور کسی طرح کا کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے ۔ وزیراعظم نے بعد میں تقریر کرتے ہوئے ایسے دوسرے امور کا تذکرہ کیا جن کو لازمی نہیں کہا جاسکتا تھا تاہم انہوں نے ملک میں کشیدگی اور تشدد جیسے اہمیت کے حامل اور حساس نوعیت کے مسئلہ پر ایک چیف منسٹر کی تشویش کا تک بھی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دستوری عہدوں پر فائز اور ذمہ دار افراد بھی اس طرح کے ریمارکس کرنے لگے ہیں جن کی دستور میں گنجائش نہیںہوسکتی ۔ راست یا بالواسطہ طور پر مذہبی جنونیت کا شکار پراگندہ ذہنوں کی حوصلہ افزائی عام بات ہوگئی ہے ۔ مسلمانوں پر حملے کرتے ہوئے جیل جانے اور پھر رہائی پانے والے افراد کی گلپوشی کرتے ہوئے انہیں تہنیت پیش کی جا رہی ہے ۔ ایسا کرنے والے مرکزی وزارت پر بھی فائز ہیں ۔ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ماحول کو مزید خراب کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے اور امن و سکون کو درہم برہم کی وجہ بن رہے ہیں۔ یہ افسوسناک صورتحال ہے ۔
ملک کے سابق فوجیوں نے اور ذمہ دار شہریوں نے بھی دھرم سنسد کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کے نعرے دینے والے جنونیوں کے خلاف بھی وزیراعظم کو مکتوب روانہ کیا تھا ۔ دوسرے ذمہ داران کے علم میں بھی یہ بات لائی تھی لیکن ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ انہیں کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے وزیر اعظم ہوں یا متعلقہ ریاستوں کے چیف منسٹرس ہوں سبھی کو ایسے عناصر کی سرکوبی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھنی چاہئے ۔ ان کی وجہ سے ملک کا ماحول بگڑسکتا ہے ۔ ملک کی ترقی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ معاشی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ راست یا بالواسطہ طور پر ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ان کی سرکوبی کی جانی چاہئے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا جاسکے ۔