نئی دہلی: دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے وزارت دفاع نے منگل کو 346 دفاعی مصنوعات کی پانچویں فہرست جاری کی جو مستقبل میں ملک میں پر تیار کی جائیں گی۔ وزارت دفاع کے مطابق ان میں حکمت عملی کے لحاظ سے اہم لائن ریپلیسمنٹ یونٹ، سسٹم، سب سسٹم، اسمبلیاں، ذیلی اسمبلیاں، اسپیئر پارٹس اور خام مال شامل ہیں، جن کی درآمدی قیمت 1,048 کروڑ روپے ہے ۔ مستقبل میں یہ مصنوعات ملک کے اندر سے ہی خریدی جائیں گی۔ وزارت دفاع نے پہلے ہی 4,666 دفاعی مصنوعات کو مقامی بنانے کے لیے چار فہرستیں جاری کی ہیں، جن میں سے 3,400 کروڑ روپے کی 2,972 مصنوعات پہلے ہی ملک میں تیار کی جا رہی ہیں۔ ان فہرستوں میں انتہائی پیچیدہ نظام، سینسرز، ہتھیار اور گولہ بارود شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں، پبلک سیکٹر نے گھریلو ڈسٹری بیوٹروں کو 7,572 کروڑ روپے کے آرڈر دیے ہیں۔ یہ مصنوعات پبلک سیکٹر کے دفاعی اداروں اور چھوٹے اور مائیکرو یونٹس میں تیار کی جائیں گی۔
اس سے معیشت میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی، دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔ مزید برآں، اس سے تعلیمی دنیا اور تحقیقی اداروں کی شرکت کی وجہ سے ملکی دفاعی صنعت کی ڈیزائن کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔
اس کے لیے وزارت دفاع نے 2020 میں سرجن پورٹل کا آغاز کیا تھا۔ اس پورٹل پر، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگس اور سروس ہیڈ کوارٹر، ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس سمیت صنعتوں کو دفاعی مصنوعات کی پیشکش کرتے ہیں۔