پنجاب اور راجستھان سرفہرست، زرعی شعبہ میں کم پانی کے استعمال کیلئے ڈرپ اریگیشن اسکیم
حیدرآباد 4 جون (سیاست نیوز) ملک کے کئی علاقوں میں مانسون کی ناکامی کے نتیجہ میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ زیر زمین پانی کے استعمال میں اضافہ کے نتیجہ میں کئی ریاستوں میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ماہرین نے زیر زمین پانی کے زائد استعمال کو زرعی اور دیگر اغراض کے لئے پانی کے استعمال میں کمی کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے ہندوستان کے کئی علاقوں میں مانسون کے دوران معمول سے کم بارش ریکارڈ کی گئی اور پینے کے پانی اور صنعتی اغراض کے لئے زیر زمین پانی پر انحصار میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں 60 فیصد سے زائد زیر زمین پانی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پنجاب، راجستھان اور ہریانہ میں زیر زمین پانی کے زائد استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں زیر زمین پانی کی سطح اطمینان بخش ہے اور وہاں مانسون بھی کامیاب ثابت ہوا ہے جس کے نتیجہ میں پینے کے پانی اور صنعتی اغراض کے لئے زیر زمین پانی پر انحصار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سروے کے مطابق زرعی شعبہ کے علاوہ شہری علاقوں کی ضروریات کی تکمیل اور صنعتی اغراض کے لئے عام طور پر زیر زمین پانی پر انحصار میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین نے یہاں تک کہاکہ اگر زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوگی تو ایسی صورت میں زلزلے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ حکومت کی سطح پر زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لئے کئی قدم اُٹھائے گئے۔ زرعی شعبہ میں ڈرپ اریگیشن اسکیم متعارف کی گئی جس کے تحت فصلوں کے لئے احتیاط کے ساتھ کم مقدار میں پانی کا استعمال کیا جاتا ہے اور اِس نئے طریقہ کار کے نتیجہ میں پیداوار کی شرح میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ملک کی تمام ریاستوں میں زیر زمین پانی کے استعمال میں پنجاب 156.9 فیصد کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ راجستھان میں 149.9 فیصد اور ہریانہ میں 136 فیصد زیر زمین پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تلنگانہ میں 45.9 فیصد زیر زمین پانی کا استعمال کیا جارہا ہے جبکہ آندھراپردیش میں یہ 29.8 فیصد درج کیا گیا۔ ایسی ریاستیں جو ساحل سمندر سے مربوط ہیں وہاں زیر زمین پانی کی سطح اطمینان بخش درج کی گئی ہیں۔V/1 m/b/