فائدہ ہی کیا ہوگا ہمسری جتانے سے
قد نہیں بڑھا کرتے ایڑیاں اُٹھانے سے
ہندوستان بھر میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے بیرونی سرمایہ کاری پر خاص توجہ دی گئی تھی ۔ مسلسل کوششوں کے بعد بیرونی کمپنیوں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا گیا تھا ۔ کئی کمپنیوں نے ملک میں سرمایہ کاری کی ۔ ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ وینچرس کا آغاز کیا گیا ۔ ہندوستان میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کے وزیر فینانس رہتے ہوئے جو فراخدلانہ پالیسیاں متعارف کروائی گئی تھیں ان کے نتیجہ میں بیرونی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ جب مشترکہ وینچرس شروع ہوئے اور سرمایہ آنے لگا تو ملک کا ماحول بھی تبدیل ہونے لگا ۔ نوجوانوں کو روزگار اور ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہونے لگے ۔ ملک کی معاشی صورتحال میں تبدیلی آئی ۔ ہندوستان کے عوام کے معیار زندگی میں بدلاؤ آیا ۔ ان کی قوت خرید بھی بڑھنے لگی تھی ۔ اس کے نتیجہ میں دوسری کمپنیوں کو اپنی اشیا کی مارکٹنگ کرنے اور ان کی فروخت کو فروغ دینے کا موقع بھی ملنے لگا تھا ۔ ہندوستان کوا س کے ثمرات بھی ملے ۔ بحیثیت مجموعی ملک کی معیشت میں بھاری تبدیلی آئی اور عوام کی زندگیوں سے غربت و افلاس کو کم کرنے میں بھی مدد ملی۔ بیرونی کمپنیوں کو ہندوستان میں سازگار ماحول فراہم ہونے لگا ۔ انہیں سرکاری منظوریوں کیلئے بھی راحتیں دی گئی تھیں۔ ہندوستان کی کمپنیوں کو کئی طرح کی مراعات دی گئیں۔ اراضیات دی گئیں۔ برقی سربراہی میں رعایت فراہم کی گئی ۔ دیگر کئی طرح کے ٹیکس کٹوتیوں سے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی ۔ اس سارے ماحول میں بیرونی کمپنیوں کو بھی ہندوستان میں مواقع دستیاب ہوئے اور انہیں اپنے لئے بہتر مستقبل دکھائی دینے لگا تھا ۔ تاہم گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران ملک میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں ہوئے اور صرف پروپگنڈہ اور تشہیر کے ذریعہ ہی ایک ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس ماحول میں بھی نفرت کو فروغ حاصل ہوا ۔ سماج کے دو اہم طبقات کے مابین دوریاں پیدا کی گئیں۔ ایک دوسرے کے خلاف انہیں متنفر کیا گیا اور ملک کی ترقی کیلئے جو امور درپیش تھے ان کو نظر انداز کرتے ہوئے نزاعی مسائل کو فروغ دیا گیا ۔
معیشت کو مستحکم کرنے والے اقدامات کی بجائے ایسی پالیسیاں اختیار کی گئی جن کے نتیجہ میں ملک میں کاروبار متاثر ہونے لگا ۔ لاک ڈاون اور نوٹ بندی کی وجہ سے بھی معیشت کی رفتار بری طرح سے متاثر رہی ۔ عوام کے روزگار متاثر ہوگئے ۔ صنعتی یونٹوں کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ۔حکومت نے بھی ساری صنعتی برادری کو مستحکم کرنے کی بجائے چند حاشیہ برداروں کی سرپرستی کی ۔ خود سرکاری کمپنیوں کو عمدا ناکارہ بناتے ہوئے انہیں حاشیہ برداروں کو فروخت کردیا گیا ۔ بے شمار حواری ملک سے ہزاروں کروڑ روپئے کے قرض لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے ۔ انہیں ملک سے باہر جانے کی سہولت دی گئی ۔ عوام کی زندگیوں پر اس سب کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ ملک میں بیروزگار اور غربت میں اضافہ ہونے لگا ہے اور بیرونی کمپنیاں ایسا لگتا ہے کہ موجودہ ماحول سے خوش نہیں ہیں۔ انہیں ملک میں جو مواقع دکھائی دے رہے تھے اب وہ نظر نہیں آ رہے ہیں۔ انہیں مستقبل میں حالات کے مزید بگڑنے اور اپنے سرمایہ کے تحفظ کے تعلق سے بھی اندیشے لاحق ہیں۔ ایسے میں ریزرو بینک آف انڈیا کے ایک عہدیدار کی جانبس ے تیار کی گئی اسٹڈی رپورٹ میں یہ اندیشے ظاہر کئے گئے ہیں کہ ملک میں سرمایہ کاری کا جو رجحان تھا وہ اب بتدریج بدلنے لگا ہے اور آئندہ چند برسوں میں ہندوستان میںسرمایہ نکاسی کا عمل تیز ہوجائے گا ۔ کئی ہزار ملین ڈالرس کا سرمایہ بیرونی کمپنیاں نکال لے جائیں گی اورا س کے ملک پر مزید منفی اثرات مرتب ہونگے ۔
اس ساری صورتحال سے یقینی طور پر سیاستدان یا بڑے کارپوریٹ اور صنعتی گھرانے بالکلیہ طور پر بے فکر ہیں۔ ان پر اس کے اثرات مرتب ہوں یا نہ ہوں لیکن یہ طئے ہے کہ ملک کا عام شہری کئی مسائل میں گھر جائے گا ۔ پہلے ہی مسائل کچھ کم نہیں ہیں اور عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول تک مشکل ہوگیا ہے ۔ غذائی اجناس ‘ ترکاریاں اور ادویات وغیرہ تک عوام کیلئے انتہائی مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے میںاگر سرمایہ نکاسی میں تیزی آتی ہے تو عام آدمی ہی سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ حکومت کو اس پہلو پر خاص توجہ کرتے ہوئے ماحول میں تبدیلی لانے اور سرمایہ نکاسی کے اندیشوں کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔