ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشہ کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
دارالحکومت دہلی میں یکم نومبر کو انڈیا اتحاد کی جماعتوں کی جانب سے منعقدہ ریلی اور جلسہ عام کے بعد ملک بھر میں سیاسی گہما گہمی میں اضافہ ہوگیا ہے اور ایک دوسرے کے تعلق سے تبصرے اور ریمارکس تیز ہوگئے ہیں ۔ سیاسی تنقیدوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ ایک طرح سے سیاسی ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اور اپنے اپنے موقف کو عوام میں موثر ڈھنگ سے پیش کرنے کی جدوجہد بڑھ گئی ہے ۔ کانگریس قائد راہول گاندھی خاص طور پر حکومت کے خلاف اپنی تنقیدوں میں شدت پیدا کرچکے ہیں اور وہ حکومت کے دیگر ذمہ داروں کی بجائے راست وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان سے سوالات کر رہے ہیں۔ ان پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ ان سے کو مباحث کیلئے چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ ان پر کئی طرح کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ۔ ان کو جواب دینے کیلئے کہا جا رہا ہے ۔ حکومت کا جہاں تک سوال ہے تو وزیر اعظم اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور اب دوسرے وزراء اور ریاستی چیف منسٹروں کی بجائے وزیر داخلہ جواب دینے لگے ہیں۔ جس طرح سے راہول گاندھی حکومت سے سوال کر رہے ہیں اسی طرح سے وزیر داخلہ بھی راہول گاندھی کو چیلنج کرنے لگے ہیں۔ ان پر بھی الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ راہول گاندھی کا الزام تھا کہ نریندر مودی بیرونی مدد سے ملک کے وزیراعظم بنے ہیں اور اسی مدد سے وہ اس عہدہ پر برقرار ہیں۔ انہوں نے اس مسئلہ پر نریندرمودی کو کھلے مباحث کیلئے چیلنج کیا ہے ۔ اس کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ حکومت تمام مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہے اور پارلیمنٹ میں مباحث کروائے جاسکتے ہیں۔ اگر راہول گاندھی چاہتے ہیں تو وہ وزیر اعظم کو مکتوب روانہ کریں اور پارلیمنٹ میں مباحث کیلئے تیار ہوجائیں ۔ امیت شاہ کا الزام ہے کہ پارلیمنٹ میں مباحث سے گریز کرتے ہوئے راہول گاندھی سڑک پر تماشہ کرنا چاہتے ہیں اور ڈرامہ کرنے کی سیاست میں مصروف ہیں۔ خود وزیر اعظم اس پر کسی طرح کا تبصرہ نہیں کر رہے ہیں۔
جہاں تک الزامات کی بات ہے تو اس کی شروعات ایک طرح سے خود وزیر اعظم نے کی تھی ۔ کسی موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا راہول گاندھی پر طنز تھا کہ کانگریس پارٹی ایک ناکام پراڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ان کا اشارہ راہول گاندھی کی سمت تھا ۔ اس کے بعد راہول گاندھی کچھ وقت تک خاموش رہے اور یکم نومبر کو دہلی ریلی کے بعد سے انہوں نے حکومت پر تنقیدوں کا سلسلہ شروع کیا اور راست طور پر وزیر اعظم کو مباحث کیلئے چیلنج کر رہے ہیں۔ بی جے پی راہول گاندھی پر ڈرامہ کی سیاست کا الزام عائد کرتے ہوئے دوہرا معیار اختیار کر رہی ہے ۔ خود نریندر مودی نے 2013 میں اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو مباحث کیلئے چیلنج کیا تھا اور ملک کی معاشی صورتحال پر بحث کی دعوت دی تھی ۔ اس وقت پارلیمنٹ میں مباحث کی بات نہیں کہی گئی تھی ۔ اسی طرح اب دہلی کی چیف منسٹر ریکھا گپتا بھی راہول گاندھی کو پارلیمنٹ میں مباحث کا چیلنج کر رہی ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ خود مباحث کیلئے تیار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریکھا گپتا پارلیمنٹ کی رکن نہیںہیں اور نہ ہی ان کے ہاتھ میں ملک کی عنان اقتدار ہے ۔ ملک کے مسائل پر وزیر اعظم سے مباحث کی بات کی جا رہی ہے اور اس پر جواب بھی وزیر اعظم کو دینا چاہئے لیکن وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ یہ ساری صورتحال سارے ملک میں سیاسی ٹکراؤ کی فضاء کو آگے بڑھا رہی ہے ۔
حکومت ہو یا اپوزیشن ہوں دونوں ہی اپنے اپنے دعووں کو درست قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ حکومت کی جانب سے راہول گاندھی کو نشانہ بنانے کی زیادہ مہم شروع کی گئی ہے ۔ حکومت کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ راہول گاندھی عوامی مسائل پر سوال پوچھ رہے ہیں اور وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے وہ عوام کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں۔ جو سوال راہول گاندھی کر رہے ہیں وہ عوام کے ذہنوں میں بھی گھر کئے ہوئے ہیں اور جلد یا بدیر حکومت کو اس کا جواب دینا پڑسکتا ہے ۔