فرقہ پرست سیاسی قائدین کے ساتھ ٹی وی اینکرس بھی ذمہ دار
حیدرآباد۔2۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) ملک میں نفرت کے ماحول کو ہوا دینے میں صرف فرقہ پرست سیاسی قائدین کا ہی نہیں بلکہ ان ٹیلی ویژن نیوز اینکرس کا بھی کلیدی کردار ہے جو نفرت پر مبنی مہم کو فروغ دیتے ہوئے عوام کے ذہنوں کو آلودہ کرنے لگے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اداروں میں خدمات انجام دینے والے کئی سرکردہ صحافیوں اور اینکرس جنہیں ’’گودی میڈیا‘‘ کہا جا رہاہے اس کے باوجود وہ بے شرمی کے ساتھ اپنی حرکات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ وہ ان حرکتوں پر پشیمانی کے بجائے اپنے موقف کا دفاع کررہے ہیں حالانکہ لائیو ٹیلی ویژن چیانلس پر مباحث کے دوران کئی لوگوں کی جانب سے ان کی بے عزتی کی جاچکی ہے اس کے باوجود وہ ’’گودی میڈیا‘‘ کہلانے میں فخر محسوس کر رہے ہیں۔ ٹوئیٹر پر ہونے والے تبصروں میں کہا جا رہاہے کہ آلودہ ذہنیت کے حامل ٹیلی ویژن اینکرس جس انداز میں فرقہ پرستی کو ہوا دے رہے ہیں اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں کیونکہ غیر ذمہ داری کے ساتھ خبروں کی اشاعت اور نشریات کے معاملہ میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے کی جانے والی کوشش کے درمیان وہ ملک کو بارود کے ڈھیر پر پہنچانے کے مرتکب بن رہے ہیں ۔ گودی میڈیاسے تعلق رکھنے والے اینکرس اور ٹیلی ویژن کے متعلق سوشل میڈیا پر جس انداز میں تبصرے کئے جا رہے ہیں وہ ان اینکرس اور صحافیوں کے کردار کی عکاسی کر رہے ہیں۔ہریانہ میں فرقہ وارانہ فسادات اور جئے پور۔ممبئی ٹرین میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائی کی رپورٹس پر قومی ذرائع ابلاغ اداروں کے کردار اور ان کے مباحث کو موضوع بحث بناتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ اگر چیتن سنگھ کی جگہ کوئی مسلمان آر پی ایف کا جوان ہوتا تو اس واقعہ کو ملک پر حملہ ‘ دہشت گردانہ کاروائی اور سازش کے علاوہ تحقیقات مکمل کرتے ہوئے اس میں ملوث تنظیم کے نام کا بھی انکشاف کردیا جاتا لیکن چیتن سنگھ معاملہ میں ہی نہیں بلکہ سی اے اے؍ این آر سی احتجاج پر گولیاں داغنے والے نوجوان اور جے این یومیں بائیں بازو تنظیموں سے تعلق رکھنے والے طلبہ پر حملہ کرنے والی نقاب پوش کے متعلق بھی گودی میڈیا نے ایسا ہی رویہ اختیار کیا تھا ۔م
