تلنگانہ میں تحفظات کو ختم کرنا وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے بس کی بات نہیں ، ضلع ناندیڑ میں انتخابی مہم سے محمد علی شبیر کا خطاب
نظام آباد۔13 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مہاراشٹرا کی عوام انتخابات میں دستور کے تحفظ ، سیکولرازم کی حفاظت کے لیے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کی پرزور اپیل کرتے ہوئے تلنگانہ گورنمنٹ کے ایڈوائزر محمد علی شبیر مہاراشٹرا کے مختلف اسمبلی حلقوں میں بڑے جلسوں سے مخاطب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہارکیا ۔محمد علی شبیر مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کے موقع پر ناندیڑ ، دھرم آبادنائیگائوں ، ناندیڑ سائوتھ ، ناندیڑ نارتھ اور دیگر اسمبلی حلقوں میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے کانگریس امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ میں پڑوسی ریاست تلنگانہ کے نظام آباد سے تعلق رکھتا ہوں اور یہاں پر مہاراشٹرا میں اس سے قبل بھی کانگریس پارٹی کے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلائی گئی تھی ۔ بلدی انتخابات میں جن مقامات پر انتخابی مہم میں نے چلائی تھی یہاں سے کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن اب یہ انتخابات فرقہ پرست اور سیکولر جماعت کے درمیان ہے لہذا مہاراشٹرا کی عوام سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں تاکہ آنے والے دنوں میں سیکولرازم کا تحفظ ہو سکے اورفرقہ پرست طاقتوں کو شکست کی مثال مہاراشٹرا سے شروع ہوسکے۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو بھاری اکثریت حاصل ہونے کا یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا محمد علی شبیر نے کہا کہ سنگھ پریوار اور سیکولر کانگریس جماعت کے درمیان ہونے والے انتخابات میں عوام کانگریس کے حق میں ہے اور ملک بھر میں کانگریس پارٹی کی لہر چل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ وزیر اعظم چائے والا اور وزیر داخلہ تڑی پار ہے ۔ جب کبھی بھی تلنگانہ کا دورہ کرتے ہیں یہاں پرسے تحفظات کو برخواست کرنے کا اعلان کرتے ہیں لیکن تحفظات کا مسئلہ سپریم کورٹ میں ہے اسے برخواست کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔ راہول گاندھی نفرت کی دکان بند کرکے محبت کی دکان کھول رہے ہیں اور وہ ملک بھر میں نفرت پھیلاتے ہوئے فرقہ پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔تحفظات کی وجہ سے تلنگانہ میں کئی طلباء کو ڈاکٹر س ، انجینئر س بننے کا موقع ملا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کانگریس کے اقلیتی سل کے صدر عمران پرتاب گڑی رکن پارلیمنٹ ، تلنگانہ کے وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی، ظہیرآباد کے رکن پارلیمنٹ سریش شیٹکر ، ناندیڑ کے ایم پی امیدوار رویندر وسنت راؤ چوان ، ناندیڑ نارتھ کے امیدوار محمد عبدالستارنائیگائوں ایم ایل اے امیدوار منل نرنجن پاٹل کے حق میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے جلسوں سے مخاطب کیا ۔ اس موقع پر محمد شبیر علی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی واحد پارٹی ہے جو تمام طبقات کے ساتھ مناسب انصاف کرے گی ۔ تلنگانہ آندھرا پردیش میں اقلیتوں کو چار فیصد ریزرویشن دینے کا سہرا کانگریس پارٹی کو جاتا ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں بی جے پی ووٹ حاصل کرنے کے لیے جھوٹ پر مبنی مہم چلا رہی ہے اور عوام کو گمراہ کرنا اس پارٹی کا مقصد ہے اور ملک بھر میں یہی کام کرتے آرہی ہے ۔ راہول گاندھی نے مہاراشٹر میں بھی جیت کی ضمانت لی ہے جیت کے بعد ان ضمانتوں کو نافذ کیا جائے گا۔ملک میں سب سے زیادہ کسانوں کی خودکشی کے اموات مہاراشٹرا میں ہوئی ہے اور اس کی ذمہ دار بی جے پی اور اُس کی حلیف جماعت ہے۔ سیاہ قانون کے ذریعے کسانوں کو نقصان پہنچایا گیا اور700 کسانوں کے اموات کی ذمہ دار مرکزی بی جے پی حکومت ہے ۔ سیاہ قانون کے ذریعے اڈانی امبانی کو فائدہ پہنچایا گیا اور کسانوں کی فلاح وبہبود کو فراموش کر دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مہاتما جیوتی راؤ پھولے، بالاگنگادھر تلک، ساوتری بائی پھولے، دستور کے مصنف بی آر امبیڈکر شیوا جی جیسے عظیم شخصیتوں نے عوام کے لیے قربانی دیتے ہوئے عوام میں اتحاد کو پیدا کیا تھا ، ایسی عظیم شخصیتوں کو مودی نے فراموش کردیا اور عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کی ، مہاراشٹرا کے 17 میگا پروجیکٹس کو وزیراعظم نریندر مودی نے گجرات منتقل کیا ہے۔محمد علی شبیر نے ان اسمبلی حلقوں میں کانگریس پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی خواہش کی ۔محمد علی شبیر کے ہمراہ نظام آباد کے کارپوریٹرز ایم اے قدوس، ہارون خان، سینئر کانگریس قائد سید نجیب علی ایڈوکیٹ، سابق ڈپٹی میئر ایم اے فہیم، سابق کارپوریٹر مجاہد خان، سمیر احمد ،محمد اکبر خان، مولانا کریم الدین کمال، محمد مجاہد ، شیخ ظفر، محمد سمیع، قائد کانگریس کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔