ملک میں گوشت کھانے والوں کی تعداد میں اضافہ

   

تلنگانہ میں مردوں سے زیادہ خواتین کو گوشت کھانا پسند ، مرکزی حکومت کے سروے میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : ملک میں گوشت خوروں ( نان ویج ) کھانے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ بالخصوص نان ویج کی مخالفت کرنے والی ریاستوں گجرات ، اترپردیش ، مدھیہ پردیش اور کرناٹک میں عوام نان ویج کھانے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ قومی خاندانی بہبود کے سروے میں اس کا انکشاف ہوا ہے ۔ مرکزی حکومت نے 15 تا 49 سال کے درمیان والے مرد و خواتین سے بات چیت کرتے ہوئے یہ تفصیلات حاصل کی ہے ۔ سروے میں اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ ملک میں ویجیٹرین کھانے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے ۔ ویجیٹرین کھانے والے مردوں کی تعداد 21.6 فیصد سے گھٹ کر 16.6 فیصد تک پہونچ گئی ہے اور نان ویج کھانے والوں کی تعداد میں 5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ جب کہ خواتین میں نان ویج کھانے والوں کی تعداد 0.6 فیصد معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ سب سے زیادہ نان ویج چکن مٹن اور مچھلی کھانے والوں میں لکشادیپ کا شمار ہے ۔ جہاں پر 98.4 فیصد لوگ نان ویج کھاتے ہیں ۔ جب کہ سب سے کم راجستھان میں 14.1 فیصد لوگ نان ویج کھاتے ہیں ۔ لکشادیپ کے بعد انڈومان نکوبار میں 96.1 فیصد گوا میں 93.8 فیصد کیرالا میں 90.1 فیصد پودیچری میں 89.9 فیصد لوگ نان ویج کھاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہفتہ میں ایک مرتبہ نان ویج کھانے والوں کی تعداد میں بھی اصافہ ہوا ہے ۔ آندھرا پردیش میں 97.4 فیصد مرد اور 95 فیصد خواتین ان ویجیٹرین کھانا پسند کرتے ہیں ۔ ماضی کے مقابلے مردوں اور خواتین کی تعداد اس معاملے میں قدرے اضافہ ہوا ہے ۔ سال 2015-16 میں 78.2 فیصد مرد گوشت کھاتے تھے اور سال 2019-21 میں یہ تعداد بڑھ کر 80 فیصد تک پہونچ گئی ۔ اس طرح خواتین کی تعداد 71.2 فیصد سے بڑھ کر 83.6 فیصد تک پہونچ گئی ۔ ریاست تلنگانہ میں مردوں کی یہ شرح 74.6 فیصد سے گھٹ کر 73.8 فیصد ہوگئی جب کہ خواتین کی تعداد 57.7 فیصد سے بڑھ کر 72.4 فیصد تک پہونچ گئی ۔۔ ن