مختلف جماعتوں کے زیراقتدار مختلف ریاستوں میں مختلف اوقات ہجومی تشدد کے واقعات : حکومت
نئی دہلی ۔ 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے راجیہ سبھا میں آج کہا کہ ملک میں ہجومی تشدد کے واقعات کا کوئی عام رجحان یا طریقہ کار نہیں ہے تاہم (ہجومی تشدد کے) ایسے بعض واقعات مختلف ریاستوں میں پیش آتے ہیں جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں ہیں۔ مملکتی وزیرداخلہ جی کشن ریڈی نے وقفہ سوالات کے دوران کہا کہ بی جے پی حکومت اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ ہے اور وزیراعظم بھی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’دستیاب تفصیلات سے معلوم ہوتا ہیکہ ہجومی تشدد کا یکساں و عام رجحان نہیں ہے البتہ مختلف اوقات کے دوران مختلف ریاستوں میں ہجومی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں ہیں‘‘۔ کشن ریڈی نے مزید کہا کہ تریپورہ، مغربی بنگال اور کیرالا سے ان واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہوتے تھے۔ قبل ازیں ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا تھا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران اقلیتوں اور دلتوں پر مظالم اور ہجومی تشدد کے واقعات بہت زیادہ عام ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعات اگرچہ ٹیلیویژن پر نہیں بتائے جاتے لیکن واٹس ایپ پر تیزی سے بکثرت پھیلائے جاتے ہیں جن میں دکھایا جاتا ہیکہ ایک مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ ارکان اقلیتی طبقہ کے افراد کو بعض نعرے لگانے کیلئے مجبور کرتے ہیں۔ غلام نبی آزاد نے دریافت کیا کہ مرکز کی طرف سے ریاستوں کو اس ضمن میں کتنی مرتبہ مشاورتی نوٹ روانہ کئے گئے ہیں۔ بعدازاں منوج کمار جھا (آر جے ڈی) نے مظفرنگر میں فرقہ وارانہ فسادات کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ 40 ملازمین کو بری کردیا گیا۔ انہوں نے دریافت کیاکہ گواہوں کی حفاظت کیلئے کیا قدم اٹھائے گئے ہیں جس پر وزیرداخلہ امیت شاہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ وزیر ہی اس کا واضح جواب دے سکتے ہیں۔