ملک پیٹ تا سنتوش نگر فلائی اوور کی تعمیر میں تاخیر

   

ٹریفک بہاؤ میں رکاوٹیں، ہزار ہا افراد کی روزمرہ زندگی پر اثر

حیدرآباد ۔ 15 ڈسمبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں ملک پیٹ تا سنتوش نگر فلائی اوور مسافروں کے لئے مایوس کن اور پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے جس کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ تین کیلو میٹر طویل کوریڈور جو اسٹریجٹک روڈ ڈیولپمنٹ پروگرام کا حصہ ہے توقع کی جارہی تھی کہ مصروف راستے میں بھیڑ کو کم کیا جائے گا۔ تاہم اس کا سنگ بنیاد رکھنے کے چار سال بعد بھی یہ منصوبہ نامکمل ہے جس سے رہائیشیوں اور مسافروں کو روزانہ کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک پیٹ تا سنتوش نگر فلائی اوور پر زمین کے حصول میں تاخیر محکموں کے درمیان تال میل کے مسائل اور زیر زمین یوٹیلیٹی کو منتقل کرنے میں پیچیدگیوں کی وجہ سے رکاوٹ بن رہا ہے۔ ان رکاوٹوں نے ترقی کو روک دیا ہے ابھی تک صرف فلائی اوور کے ستون ہی تعمیر ہوئے ہیں۔ فلائی اوور جس کی لاگت 523.37 کروڑ روپے ہے جولائی 2020 میں اس وقت کے آئی ٹی سنٹر کے ٹی آر نے سنگ بنیاد رکھا تھا اب چار سال کے بعد بھی تعمیر مکمل ہونے سے بہت دور ہے۔ ملک پیٹ سے سنتوش نگر تک سعیدآباد، دھوبی گھاٹ اور آئی ایس سدن جنکشن سے ہوتے ہوئے گزشتہ چند سالوں میں ٹریفک کے بہاؤ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ایک بار مکمل ہونے کے بعد ایلیوٹیڈ کوریڈور پریس روڈ اکبر باغ ملک پیٹ، چنچل گوڑہ، سعید آباد، دھوبی گھاٹ، آئی ایس سدن اور سنتوش نگر میں اویسی جنکشن کو جوڑے گا۔ اس پراجکٹ میں تاخیر سے ہزاروں لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ ش