ملک کا سیاسی منظر نامہ

   

Ferty9 Clinic


ملک بھر میں عوامی سطح پر اور در پردہ سیاسی سرگرمیوںمیں تیزی اور شدت پیدا ہونے لگی ہے ۔ آئندہ پارلیمانی انتخابات حالانکہ 2024 میں ہونے والے ہیں لیکن اس سے قبل کچھ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ہر ریاست کے انتخابات کو سیاسی جماعتیں انتہائی اہمیت دینے لگی ہیں کیونکہ اس کے نتیجہ میں ان کے آئندہ پارلیمانی انتخابات کے امکانات پر اثر ہوسکتا ہے ۔ ہر جماعت چاہتی ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرتے ہوئے حکومت سازی میں کوئی سرگرم رول ادا کرسکے ۔ اسی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کردی گئی ہے ۔ اپنے اپنے طور پر تیاریاں بھی شروع کردی گئی ہیں۔ پالیسیاں اور پروگرامس تیار کئے جا رہے ہیں۔ عوام کو رجھانے کے منصوبوںکو قطعیت دی جا رہی ہے ۔ تشہیر کا سہا را لیا جا رہا ہے ۔ سوشیل میڈیا کارکنوں کو تیار کیا جا رہا ہے ۔ الزامات و جوابی الزامات میں تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔ ایک دوسرے کو نشانہ بنانے اور زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو اپنے ساتھ ملانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ ہر جماعت اپنے طور پر سیاسی سرگرمیوں میںمصروف ہوگئی ہے ۔ بی جے پی نے سارے ملک میں انتخابی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ وہ لوک سبھا نشستوں کی تعداد کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہر ریاست کیلئے علیحدہ منصوبے بنا رہی ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے آئندہ انتخابات میں بھی 300 سے زیادہ بلکہ 350 تک لوک سبھا نشستوں پر کامیابی مل جائے تاکہ وہ اپنے دوسرے منصوبوں پھر بھی پوری سختی کے ساتھ عمل آوری کرسکے ۔ وہ مختلف ریاستو ں میں اپنے موقف کو مستحکم کرتے ہوئے اپنے منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے ۔ کوشش یہ بھی جاری ہے کہ جن جن ریاستوں میں ممکن ہوسکتا ہے منتخبہ حکومتوں کو زوال کا شکار کرتے ہوئے خود پچھلے دروازے سے اقتدار حاصل کرلے ۔ یہ کوشش مہاراشٹرا میں کامیاب ہوگئی لیکن دوسری ریاستوں میں اسے فی الحال اس میں کامیابی ملنے کی امید دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ بہار میںالٹا بی جے پی جس حکومت کی حصہ دار تھی وہ ختم ہوگئی اور اسے اپوزیشن میں بیٹھنا پڑ رہا ہے ۔
کانگریس پارٹی کا جہاں تک سوال ہے وہ انتہائی کمزور حالت میں پہونچ چکی ہے ۔ پارٹی کے سینئر ترین قائدین بھی اب پارٹی چھوڑنے لگے ہیں۔ انہیں بھی اپنا مستقبل پارٹی کی طرح کمزور دکھائی دے رہا ہے اسی لئے وہ دوسرے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم راہول گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا شروع کردی ہے ۔ حالانکہ ان کا دعوی ہے کہ اس یاترا کا مقصد ملک بھر میں پھیلائے جانے والے نفرت کے ماحول کو ختم کرنا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ سماج سے نفرت کا خاتمہ ہو کر رواداری اور محبت و اخوت کو فروغ دیا جائے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس یاترا کے سیاسی مقاصد بھی ہیں۔ جس طرح سارے ملک میں کانگریس پارٹی مسائل کا شکار ہے ان کو دور کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے ۔ کانگریس کے عوامی رابطے کم سے کم ہوچلے ہیں اور سرگرم قیادت کا بھی فقدان ہے ۔ راہول گاندھی اپنی بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ عوامی رابطے بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابتدائی مراحل میں اس یاترا پر عوام کا رد عمل مثبت ہی کہا جاسکتا ہے تاہم آئندہ دنوں میں اس کو کس حد تک عوامی مقبولیت ملے گی یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا ۔ ساتھ ہی کانگریس پارٹی نے اپنے نئے صدر کے انتخاب کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے ۔ اس طرح کانگریس بھی خود کو انتخابات کیلئے تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ان کوششوں میں پارٹی کو کتنی کامیابی ملے گی اور عوام کے رابطے کس حد تک بحال کئے جاسکیں گے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ تاہم پارٹی حلقوں میںا س تعلق سے مثبت امید ہی پائی جاتی ہے ۔
ملک کی دوسری تقریبا تمام ریاستوں میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔ سیاسی منظر نامہ ابھی انتہائی گنجلک دکھائی دے رہا ہے ۔ عام آدمی پارٹی اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کی کوشش کرنے کی بجائے اپنے لئے علیحدہ مقام بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ گجرات اور ہماچل پردیش میں اس کے عزائم جارحانہ دکھائی دیتے ہیں تاہم اس سے اپوزیشن کے ووٹوں کی تقسیم کا اندیشے پیدا ہوگئے ہیں۔ اسی طرح تلنگانہ میں ٹی آر ایس بھی بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی کا دعوی کر رہی ہے اور قومی سیاسی جماعت بنانا چاہتی ہے ۔ بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار اپوزیشن اتحاد کی کوششوں میں جٹ گئے ہیں۔ بحیثیت مجموعی انتہائی پیچیدہ صورتحال دکھائی دیتی ہے تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ان سرگرمیوں نے ماحول کو ضرور گرمادیا ہے ۔