آر ایس ایس سربراہ کی دسہرہ تقریر پر صدر مجلس کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔5۔اکٹوبر(سیاست نیوز)
موہن بھگوت کیلئے دسہرہ کا دن نفرت پھیلانے اور خوف پیدا کرنے کا دن بن چکا ہے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی صدر مجلس اتحاد المسلمین نے آر ایس ایس سربراہ کی دسہرہ کے موقع پر کی گئی تقریر پر تنقیدکی اور کہا کہ جب ہندو اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے تو آبادی کے عدم توازن کا سوال کہاں پیداہوتا ہے! بھگوت نے دسہرہ کے موقع پر مذہبی اعتبار سے آبادی کے عدم توازن کو روکنے کیلئے اصلاحات اور آبادی پر کنٹرول کی بات کرتے ہوئے عوام میں خوف اور نفرت پھیلانے کا کام کررہے ہیں اور مخصوص طبقہ کو نسل کشی کیلئے اکسایا جارہا ہے۔ انہوں نے کوسوو کے قیام کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سربیائی قوم پرستوں کی جانب سے البانیائی مسلمانوں کے قتل عام کے بعد کوسوو ریاست قائم کی گئی تھی۔ صدرمجلس نے اپنے ٹوئیٹر پیام میں بتایا کہ مسلمانوں کی آبادی میں جس رفتار سے گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے وہ کسی اور قوم میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھگوت نے آبادی پر کنٹرول کے قوانین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذہبی اعتبار سے آبادی میں عدم توازن کی صورت میں ملک کی سرحدیں تبدیل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اسد الدین اویسی نے ان کے اس بیان کی سخت مذمت کی۔م
اور انہیں منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان سے دیگر ابنائے وطن کو خائف کرنے کی غرض سے اس طرح کے بیان دیتے ہوئے نسل کشی پر اکسایا جا رہاہے۔م