ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کا بالواسطہ طور پر ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل

   


علاقائی سیاسی پارٹیاں اور نام نہاد سیکولر جماعتوں کی تشہیر کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش

حیدرآباد۔30۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بالواسطہ طور پر ہندو توا ایجنڈہ کو اختیار کرنے لگی ہیں! ہندستان میں مذہبی منافرت پر مبنی سیاست کو ہوا دینے کی کوششیں بڑی حد تک کامیاب ہونے لگی ہیں اور علاقائی سیاسی جماعتیں اور نام نہاد سیکولر جماعتوں کی جانب سے بھی اب ہندو توانظریات کو برسرعام قبول کیا جانے لگا ہے بلکہ ان کی تشہیر کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کی جانے لگی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 8 سالہ دور اقتدار میں مذہبی منافرت کا جو زہر پھیلایا گیا ہے وہ اب دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی سرائیت کرچکا ہے کیونکہ عام آدمی پارٹی جسے قابل اور تعلیم یافتہ اور سیکولر کردار کے حامل افراد پر مشتمل سیاسی جماعت قرار دیا جاتا رہا ہے وہ بھی اب پوری طرح سے ہندوتوا نظریات کو پیش کرنے لگی ہے۔ گذشتہ دنوں کرنسی نوٹ پر ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصاویر کے سلسلہ میں اروندکجریوال کے بیان کے بعد آج اروند کجریوال نے گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی جانب سے یونیفارم سیول کوڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونیفارم سیول کوڈ کے حامی ہیں لیکن انتخابات سے عین قبل کئے گئے اعلان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے یونیفارم سیول کوڈ کمیٹی کی تشکیل دے رہی ہے۔ اروند کجریوال ہی نہیں بلکہ ملک کی کئی ریاستوں میں علاقائی سیاسی جماعتو ںکی جانب سے ہندو توا نظریات کا راست یا بالواسطہ طور پر اظہار کیا جا نے لگا ہے جس میں ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی بھی شامل ہے۔ ریاست میں تلنگانہ راشٹرسمیتی سربراہ نے متعدد مرتبہ باضابطہ یہ اعلان کیا ہے کہ وہ نریندر مودی اور کسی بھی بی جے پی قائد سے زیادہ کٹر ہندو ہیں اور مذہب پرست ہیں جو کہ مذہبی سیاست کا ہی ایک انداز ہے لیکن اب جبکہ اروند کجریوال نے کرنسی نوٹ پر لکشمی اور گنیش کی تصویر شائع کرنے کے لئے وزیر اعظم کو مکتوب روانہ کیا ہے اس کے فوری بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات میں یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کے سلسلہ میں کمیٹی کی تشکیل کے اقدامات کے اعلان کئے ہیں جس پر اروند کجریوال نے یونیفارم سیول کوڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یونیفارم سیول نافذ کیا جائے لیکن بی جے پی اس کے نفاذ کے بجائے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے انتخابات سے قبل اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے۔ م