شکوہ خزاں سے ہے نہ شکایت بہار سے
ترتیب گلستاں ہے اسی انتشار سے
ہندوستان میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے ترقی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں اور انہیں گمراہ کرنے میںکوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ۔ تاہم جب حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے تو یہ تمام کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیںاور عوام کی حقیقی صورتحال ملک کے سامنے آشکار ہوتی ہے ۔ جہاں حکومتیں اور وزراء بے شمار دعوے کرتے ہیں وہیں خود سرکاری اعداد و شمار کی اجرائی کے ساتھ وہ سب کے سب غلط ثابت ہوجاتے ہیں۔ گذشتہ دنوں نیتی آیوگ نے ملک بھر کی تمام ریاستوں میں غربت کے انڈیکس کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں سب سے زیادہ غریب پانچ ریاستوں میں چار ریاستیں ایسی ہیں جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے ۔ ملک کی سب سے غریب ترین ریاست بہار ہے جہاں 51فیصد سے زیادہ عوام غربت کا شکار ہیں۔ یہی وہ ریاست ہے جہاں گذشتہ تین معیادوں سے نتیش کمار چیف منسٹر ہیں اور وہ بی جے پی کے ساتھ حکومت بنائے ہوئے ہیں۔ سابقہ آر جے ڈی حکومت کو ریاست کی ترقی کو نظر انداز کرنے کی ذمہ دار قرار دینے والی بی جے پی اور نتیش کمار گذشتہ تین معیادوں میں اور جاریہ چوتھی معیاد میں بھی ریاست میں غربت کو ختم کرنے میں پوری طرح ناکام رہے ہیں جس سے ان کی کارکردگی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ دوسرے نمبر پر جھارکھنڈ ہے ۔ جھارکھنڈ بھی کبھی بہار کا حصہ تھا جہاں غربت زیادہ ہے ۔ غربت کے معاملہ میں بہار دوسری ریاست ہے اور یہاں جھارکھنڈ میں بھی بی جے پی کا اقتدار تھا تاہم اب وہاں ایک علاقائی جماعت ‘ کانگریس اور آر جے ڈی کے ساتھ اقتدار میں ہے ۔ اسی طرح تیسرے نمبر پر اترپردیش ہے جہاں غربت کی شرح دوسری ریاستوں سے زیادہ ہے ۔ گذشتہ ساڑھے چار سال میں ریاست کی ترقی کو مسلسل نظر انداز کرتے ہوئے صرف شہروں کے ناموں کی تبدیلی پر اکتفاء کیا گیا اور صرف ہندو ۔ مسلم منافرت کا کھیل کھیلا گیا جس کا لازمی نتیجہ یہی نکلا ہے کہ ریاست پورے ملک میں غربت کے معاملے تیسرے نمبر پر ہے ۔
مدھیہ پردیش بھی ملک کی غریب ریاستوں میں شامل ہے ۔ یہاں تین معیاد تک بی جے پی کی شیوراج سنگھ چوہان حکومت رہی تھی اور چوتھی مرتبہ اسے کانگریس کے خلاف شکست ہوئی تھی ۔ دیڑھ دو سال کے عرصہ میں پچھلے دراوزے سے بی جے پی نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور اس کیلئے کانگریس کے جیوتر آدتیہ سندھیا کو استعمال کرتے ہوئے حکومت اور پارٹی کے خلاف بغاوت کروائی تھی ۔ اس طرح چوتھی معیاد میں یہاں بھی بی جے پی خود برسر اقتدار ہے ۔ یہاں بھی حکومت نے ترقیاتی کام کرنے اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی بجائے صرف فرقہ وارانہ ماحول کو متاثر کرنے جیسے کام کئے ہیں۔ بی جے پی حکومتوں میں قوانین عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے نہیں بنے ہیں بلکہ گاؤ کشی روکنے قانون بنا ہے ۔ گایوں کیلئے شیلٹر بنائے گئے ہیں اور علیحدہ وزارتیں قائم کی گئی ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستیں غربت کے معاملے میں دوسروں سے اوپر ہیں۔ پانچویں نمبر پر میگھالیہ ہے اور شمال مشرق کی اس ریاست میں بھی بی جے پی اقتدار پر ہے ۔ بی جے پی حکومتیں عوام کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کی بجائے یہ طئے کرنے میں لگی رہیں کہ عوام کو کیا کھانا چاہئے ۔ کیا پہننا چاہئے ۔ کیا نعرے لگانے چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے ۔ ایسی ہی لا یعنی مصروفیات اور بے ہنگم اقدامات کا نتیجہ ہے کہ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں غربت دوسری ریاستوں کی بہ نسبت ز یادہ ہے ۔ یہ نیتی آیوگ کی رپورٹ خود کہتی ہے ۔
سب سے کم غربت والی ریاستوں میں کیرالا ہے ۔ یہ ریاست ایسی ہے جہاں بی جے پی اب تک قدم جمانے نہیں پائی ہے ۔ بی جے پی ملک کی کسی بھی ریاست میں انتخاب لڑتی ہے تو ڈبل انجن کا دعوی کرتی ہے ۔ مرکز میں بی جے پی اور ریاست میں بی جے پی اقتدار میں رہنے کے باوجود اس کی بڑی ریاستیں غربت کے معاملے میں سب سے آگے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹاملناڈو اور پنجاب ایسی ریاستیں ہیں جہاں دوسری ریاستوں سے غربت بہت کم ہے ۔ ان ریاستوں میں بھی اپوزیشن کی حکومتیں ہیں ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی محض عوام کو گمراہ کرنے میں وقت ضائع کرتی ہے اور ڈبل انجن سرکار کے دعوے بھی کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔ ان حکومتوں کو عوام کی بہتری پر توجہ دینی چاہئے۔
