ملک کے استحکام کیلئے تمام مذہب کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت

   

عوام نے ہندوتوا راشٹرا نظریہ کو مسترد کردیا ، جئے پور میں قومی کانفرنس سے فاروق عبداللہ ، سلمان خورشید ، عزیز پاشاہ اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد۔20۔مارچ (سیاست نیوز) انڈین مسلمس فار سیول رائیٹس کی چوتھی قومی کانفرنس جئے پور پریس کلب میں منعقد ہوئی جس کا موضوع انسانی حقوق اور جمہوریت ، موجودہ موقف رکھا گیا تھا ۔ کانفرنس سے سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، رکن پارلیمنٹ دانش علی، سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، کنوینر اڈوائزری کمیٹی اور سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ ، امین کاغذی رفیق خاں ارکان اسمبلی، سنیل شرما ، پروفیسر تیواری اور ڈاکٹر اعظم بیگ نے مخاطب کیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ملک انتہائی ابتر صورتحال سے گزر رہا ہے ۔ مسلمان ملک میں برابر کے حصہ دار ہیں لیکن بعض طاقتوں کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر عوام میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مسلمان ملک کی آبادی میں 22 کروڑ ہیں لیکن ہندوؤں کی اکثریت کی رائے فرقہ پرستوں کے ساتھ نہیں ہے ۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلمان موجودہ صورتحال میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ ملک میں مختلف طبقات کے درمیان محبت اور باہمی بھائی چارہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ مختلف طبقات کو اپنے معمولی اختلافات اور اختلاف رائے کو پس پشت ڈال کر ملک کی ترقی کیلئے متحدہ طور پر کام کرنا چاہئے ۔ اگر ہم متحد ہوجائیں تو کوئی بھی طاقت دستور کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ پارلیمنٹ میں راہول گاندھی کو اظہار خیال کی اجازت نہ دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ راہول گاندھی منتخب عوامی نمائندہ ہیں اور انہیں وضاحت کا موقع ملنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور اس کے باہر اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوششیں افسوسناک ہیں۔ سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ مختلف طبقات کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوششیں ملک کیلئے نقصان دہ ہیں۔ ہندوستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے ہندو ، مسلم ، سکھ اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا ۔ اگر ہم آپس میں بھوک کا شکار ہوجائیں تو ملک عدم استحکام سے دوچار ہوگا۔ سلمان خورشید نے کہا کہ جب فوجی سرحد پر پہنچتے ہیں تو کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ ان کا مذہب کیا ہے ؟ ہر کوئی ملک کی حفاظت کیلئے برسر پیکار ہوتا ہے ۔ رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی نے حیرت کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ میں برسر اقتدار پارٹی کے ارکان کارروائی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ ہندوستان انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ پارلیمنٹ عوامی مسائل کو پیش کرنے کا فورم باقی نہیں رہا۔اہم سرکاری بلز مباحث کے بغیر منظور کئے جارہے ہیں۔ سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ نریندر مودی حکومت ہندوتوا ایجنڈہ پر قائم ہے۔ انہوں نے نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے عوام کی اکثریت نے آر ایس ایس کے ہندو راشٹر نظریہ کومسترد کردیا ہے۔ ہندوستان میں 18 ہزار مادری زبانیں بولی جاتی ہیں اور یہی ہندوستان کی خوبی ہے کہ ملک میں ایک زبان اور ایک تہذیب کا نظریہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ اڈانی مسئلہ پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل سے انکار اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی اڈانی کے ساتھ اپنے روابط کو بے نقاب ہونے سے خوفزدہ ہیں۔ کانفرنس سے سنیل شرما ، پروفیسر تیواری ، مولانا منظور احمد ، نسیم صدیقی سابق صدرنشین مہاراشٹرا اقلیتی کمیشن، ڈاکٹر اعظم بیگ ، اور دوسروں نے مخاطب کیا۔ر