ملک کے بہتر مستقبل کیلئے اقلیتیں سیاسی شعور کا مظاہرہ کریں

   

ووٹ ایک امانت ، رائے دہی میں ضرور حصہ لیں،ایڈیٹرسیاست جناب زاہد علی خاں کی اپیل
حیدرآباد۔/12 مئی، ( سیاست نیوز) جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر ’سیاست‘ نے عوام بالخصوص اقلیتی رائے دہندوں سے اپیل کی کہ کل 13 مئی کو ملک میں دستور اور جمہوریت کے تحفظ اور نئی نسل کے تابناک مستقبل کیلئے حق رائے دہی سے استفادہ کرکے مرکز میں عوام دوست حکومت کی تشکیل کو یقینی بنائیں۔ جناب زاہد علی خاں نے رائے دہندوں کے نام اپنے پیام میں کہا کہ جاریہ لوک سبھا چناؤ ملک کی تاریخ کا ایک نازک موڑ ہے اور الیکشن کے ذریعہ یہ طئے ہوجائے گا کہ ہندوستان میں دستور اور قانون کی حکمرانی رہے گی یا پھر جارحانہ فرقہ پرست طاقتیں ہندوتوا ایجنڈہ نافذ کریں گی۔ جاریہ الیکشن ملک کے مستقبل کو طئے کرے گا۔ آئندہ نسلوں کو ترقی و بہتر مستقبل کی فراہمی ہر ایک کی ذمہ داری ہے لہذا ووٹرس کو اپنے سیاسی شعور کا مظاہرہ کرکے صبح کی اولین ساعتوں میں متحدہ ووٹ کا استعمال کرنا چاہیئے۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ گذشتہ 10 برسوں میں سیکولرازم اور جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے اور فرقہ پرست طاقتیں دستور کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ مسلمانوں کو انتخابی مہم کے دوران نشانہ بناکر بی جے پی نے صاف کردیا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد اس کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں۔ روز نامہ ’سیاست‘ نے کئی مذہبی اور سماجی تنظیموں کے اشتراک سے ووٹ کی اہمیت پر ریاست گیر سطح پر شعور بیداری مہم چلائی جس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہر سیکولر اور اقلیتی رائے دہندے کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ووٹ کا استعمال کریں بلکہ اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں کو ووٹ کے استعمال کی ترغیب دیں تاکہ ملک میں دستور کی پابندی کرنے والی حکومت تشکیل دی جاسکے۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ حالات کی سنگینی کو محسوس کرکے اقلیتوں کو اپنے ووٹنگ فیصد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ تعطیلات کا بہانہ بناکر سیر و تفریح اور رائے دہی سے دوری اختیار کرنا آئندہ دنوں میں پچھتاوے کا سبب بن سکتا ہے۔ لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزاء پائی جیسا عمل نہ ہونے پائے لہذا ووٹرس کو اپنی ذمہ داری محسوس کرکے سیکولر امیدواروں کے حق میں ووٹ کا استعمال کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ موسمی حالات کے پیش نظر ہر ووٹر کو صبح اولین ساعتوں میں پولنگ اسٹیشن پہنچ جانا چاہیئے تاکہ اپنے دستوری حق کا فوری استعمال ہو اور ووٹ ضائع ہونے سے بچ جائے ۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی کے موقع پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی بہتر کارکردگی پر نظر رکھی جائے کیونکہ کئی ماہرین نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں مداخلت کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ شرعی اعتبار سے بھی ووٹ ایک امانت ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ملک اور سماج کیلئے بہتر امیدواروں کو منتخب کریں۔1