ملک کے 150 اضلاع میں لاک ڈاون نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور

   

l ان اضلاع میں 15 فیصد سے زائد کورونا کی مثبت شرح l طبی نظام مفلوج ہونے کا خطرہ
l مرکزی وزارت صحت نے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی مرکز کو سفارش کی
l ریاستوں سے تبادلہ خیال کے بعد مرکزی حکومت قطعی فیصلہ کریگی
حیدرآباد۔ ملک بھر میں کورونا کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ گذشتہ ایک ہفتہ سے ریکارڈ سطح پر 3 لاکھ سے زائد نئے کیسس درج ہورہے ہیں اور شرح اموات میں بھی زبردست اضافہ ہورہا ہے۔ بالخصوص ملک کے 150 اضلاع میں کوویڈ 19 کی مثبت شرح 15 فیصد سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان اضلاع میں طبی سہولتیں توقع کے برعکس نہیں ہے۔ طبی نظام مفلوج ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ان 150 اضلاع میں سخت اور مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے معاملے میں مرکزی حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ کورونا کو کنٹرول کرنے کا جائزہ لینے کیلئے منگل کو مرکزی وزارت صحت کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مرکزی وزارت صحت نے ان 150 اضلاع میں لاک ڈاون نافذ کرنے کی مرکزی حکومت کو سفارش کی ہے۔ مرکزی وزارت نے اپنی سفارشات میں بتایا ہے کہ فی الحال ملک میں کورونا کی جو صورتحال ہے اس کو جنگی خطوط پر کنٹرول نہیں کیا گیا تو حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔ طبی نظام بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔ دن بہ دن پازیٹیو کیسس اور اموات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم مرکزی حکومت کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون نافذ کرنے کے معاملے میں مرکزی حکومت ریاستوں سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد مستقبل کا فیصلہ کرنے پر غور کررہی ہے۔ 5 اپریل کو پہلی مرتبہ ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد کورونا کے کیسس درج ہوئے اس کے 10 دن بعد 15 اپریل کو 2 لاکھ سے زائد کیسس درج ہوئے۔ 22 اپریل کو پہلی مرتبہ ملک بھر میں 3 لاکھ سے زائد کورونا کے نئے معاملات درج ہوئے اور مسلسل 8 دن سے 3 لاکھ سے زیادہ کورونا کے نئے کیسس درج ہوئے۔29 اپریل کو کورونا کے نئے کیسس نے تمام ریکارڈس کو توڑتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ آج ایک ہی دن میں ملک بھر میں 3,79,287 لاکھ نئے کیسس درج ہوئے اور 3,645 اموات ہوئیں۔ اس طرح ملک بھر میں تاحال 2 لاکھ سے زائد افراد کی کورونا سے موت واقع ہوئی ہے۔ فی الحال ملک بھر میں کورونا کے سرگرم کیسس کی تعداد 30 لاکھ سے زائد ہے۔ مہاراشٹرا، دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات، چھتیس گڑھ ، پنجاب، کیرالا، کرناٹک میں زیادہ کیسس درج ہورہے ہیں اور کئی ریاستوں میں نائیٹ کرفیو، لاک ڈاون اور سخت تحدیدات پر عمل کیا جارہا ہے۔