ملیٹ کی فصل کو فروغ دینے بھوپیش کا وزیراعظم کو مکتوب

   

رائے پور: چیف منسٹر چھتیس گڑھ بھوپیش بگھیل نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر درخواست کی کہ وہ ملیٹ کی فصل کی پیداوار اور استعمال کو فروغ دینے اور اسے ایک عوامی تحریک بنانے پہل کریں ۔خط میں بگھیل نے ‘نیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ’ کے تحت مڈ ڈے میل پروگرام، خواتین اور اطفال کی ترقی کے محکمے کی غذائیت سے بھرپور خوراک اور آشرم ہوسٹلوں کو دئے جانے والے سبسڈی والے اناج کی تقریباً 20 سے 25 فیصد مقدار کو شامل کرنے ، مرکزی حکومت کی طرف سے ریاستی حکومتوں کو کم از کم امدادی قیمت پر ذخیرہ کرنے کے سلسلے میں اور ریاستی حکومتوں کو رعایتی شرح پر اناج تقسیم اور غذائیت سے متعلق خوراک اسکیموں میں استعمال کے لیے رعایتی قیمت پر ملیٹ دئے جانے کا فیصلہ کرنے کی درخواست کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی پہل پر 2023 کو اقوام متحدہ نے ‘انٹرنیشنل ملیٹ ایئر’ قرار دیا ہے ۔ ملیت کی فصل خون کی کمی اور غذائی قلت کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ بدقسمتی سے گزشتہ برسوں میں مارکیٹنگ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں ملیٹ کی فصل کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ چھتیس گڑھ میں ملیٹ کی فصل کو فروغ کی تفصیل بتاتے ہوئے بگھیل نے لکھا ہے کہ چھتیس گڑھ میں ملیٹ کی فصلوں کی پیداوار کو فروغ دینے ‘ملیٹ مشن’ کے قیام کے ساتھ ہی ریاست میں پیدا ہونے والے کودو، کٹکی اور کوڈو، کٹکی راگی کی کم از کم امدادی قیمت اعلان کرکے ان کی ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹنگ کیلئے ٹھوس انتظامات کیے گئے ہیں۔ ملیٹ کے کاشتکاروں کو 9,000 روپے فی ایکڑ کی ان پٹ سبسڈی بھی دی جا رہی ہے ۔ کسی ریاست میں اتنی امداد نہیں دی جا رہی ہے ۔ ان وجوہات کی وجہ سے ریاست میں ملیٹ کی فصلوں کے رقبہ اور پیداوار میں پچھلے دو سالوں میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔