ممبئی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد بلڈوزر کارروائی

,

   

اشتعال انگیز ویڈیو وائرل کرنے کی پاداش میں ایک شخص گرفتار، مجموعی طور پر 13 افراد زیر حراست

ممبئی : مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی کے قریب میرا روڈ علاقہ میں دو مذہبی برادریوں کے درمیان پیش آئی جھڑپوں کے سلسلہ میں 13 افراد کی گرفتاری کے بعد ضلع انتظامیہ نے کئی عمارتوں اور بستیوں کو غیر قانونی تجاوزات قرار دیتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کردیا ہے ۔ یہ بلڈوزر کارروائی آج عمل میں لائی گئی۔ بھاری پولیس جمعیت اور سیکوریٹی پرسونل کے ساتھ بلڈوزرس آج علاقہ میں داخل ہوئے ۔ پولیس نے بتایا کہ 15 غیر قانونی ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا ہے ۔ ریاپڈایکشن فورس کی ٹیم کے بشمول پولیس پرسونل کی بھاری جمعیت علاقہ میں تعینات کردی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالا جاسکے۔ مختلف اسٹالس کے انہدام کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکے ہیں۔ ممبئی پولیس نے ابو شیخ کو گرفتار کیا اور بتایا کہ اس کا پوسٹ کردہ ویڈ یو اشتعال انگیز ہے۔ ایودھیا کی رام مندر کے افتتاح سے ایک روز قبل 21 جنوری کو ممبئی سے قریب واقع میرا روڈ علاقہ میں فرقہ وارانہ جھڑپیں پیش آئیں۔ ڈی سی پی جینت بجبالے نے کہا کہ گڑبڑ اس وقت پیدا ہوئی جب ہندوتوا کمیونٹی کے بعض ارکان نے مسلم اکثریتی علاقہ جئے شری رام کے نعرے لگائے۔ یہ واقعہ اتوار کو رات تقریباً 11 بجے پیش آیا، جب دونوں برادریوں میں جھڑپ ہوگئی۔ ہندو کمیونٹی کے چند لو گ ممبئی سے متصل میرا روڈ کے نیا نگر علاقہ میں تین چار گاڑیوں میں گھوم رہے تھے۔ جب ہندو ہجوم نے ایک مسلم شخص کی گاڑی روکی اور اسے مخصوص نعرہ لگانے پر مجبور کیا تو کشیدگی بڑھ گئی۔ بتایا گیا کہ دباؤ میںمخصوص نعرہ لگانے کے باوجود ہجوم میں سے چند لوگ مسلمانوں کی گاڑیوں کی چابیاں لیکر چلے گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ علاقہ میں فلیگ مارچ کے ذریعہ صورتحال قابو میں لائی گئی ہے۔ 5 افراد کے خلاف کیس درج کر کے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ دریں اثناء مہاراشٹرا ڈپٹی سی ایم دیویندر فڈنویس نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔