ممتا بنرجی بمقابلہ امیت شاہ

   

ہندوستان کی سیاست آنے والے چند ہفتوں میں دلچسپ صورتحال سے دوچار ہوسکتی ہے کیوں کہ آسام ، مغربی بنگال ، کیرالا ، تاملناڈو اور پڈوچری کے اسمبلی انتخابات پر سارے ملک کی نگاہیں ہیں ۔ خاص کر مغربی بنگال اس وقت امیت شاہ بمقابلہ ممتا بنرجی کا انتخابی میدان بن چکا ہے ۔ قومی مسائل پر مودی حکومت کا موقف انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے علاقائی سیاست میں اس کا رول ضرورت سے زیادہ دکھائی دے رہا ہے ۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے حال ہی میں ان پر ہوئے حملے کے لیے مخالف سیاسی گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے امیت شاہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست بنگال میں سیاسی تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس کے جواب میں امیت شاہ نے ممتا بنرجی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ووٹ برائے نوٹ کے ساتھ کرپشن میں ملوث ہے ۔ عوام خاص کر مغربی بنگال کے رائے دہندوں کو یہ دیکھ کر حیرانی ہورہی ہوگی کہ یہ سیاستداں عوام کے مسائل پر بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی خرابیوں کو ظاہر کررہے ہیں ۔ امیت شاہ اور ممتا بنرجی کا موقف بتا رہا ہے کہ مغربی بنگال کے یہ انتخابات آنے والے سیاسی میدان کو مزید لڑاکو بنادیں گے ۔ قومی سیاست کے مزے لینے والے سیاستداں اس وقت جہاں کھڑے ہیں اس سے آگے بڑھنے کی کوشش میں کچھ بھی کر گذرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ مغربی بنگال کے ہوگلی علاقہ میں ایک فائرنگ واقعہ میں بی جے پی کارکن کی ہلاکت یا نندی گرام میں ممتا بنرجی پر حملہ ایک ملاجلا سیاسی سوال و جواب معلوم ہوتا ہے ۔ تاہم ممتا بنرجی پر حملے کے واقعہ نے ترنمول کانگریس کے سیاسی امکانات کو مضبوط بنادیا ہے ۔ انہیں بنگال کی زخمی شیرنی بھی کہا جانے لگا ۔ اس زخمی شیرنی کا مقابلہ کرنے کے لیے بی جے پی نے اپنی ساری طاقت جھونک دی ہے ۔ بی جے پی اگر قومی اقتدار کی طاقت کے سہارے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرے تو یہ علاقائی سطح کے رائے دہندوں کے لیے قابل قبول ہوگا ۔ مغربی بنگال کے عوام نے بی جے پی کو کس زاویہ نگاہی میں رکھا ہے ۔ اس کا پتہ اسمبلی نتائج کے بعد ہی چلے گا ۔ فی الحال بی جے پی مغربی بنگال کو لے کر ضرورت سے زیادہ بوجھ اُٹھانے کی کوشش کررہی ہے ۔ بوجھ اتنا ہی اٹھانا چاہئے جتنا کمر سہہ سکے ، زیادہ بوجھ اُٹھانے سے کچھ بھی ہوسکتا ہے اور قومی سطح پر غلبہ حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والی بی جے پی کی سیاسی کمر ٹوٹ سکتی ہے ۔ یا وہ کُبڑے پن کا شکار بھی ہوسکتی ہے ۔ الیکشن کمیشن کے امور میں مداخلت کا نوٹ لیتے ہوئے ممتا بنرجی نے دھمکی دی کہ اگر انتخابی اتھاریٹی نے بی جے پی قائدین کی جانب سے الیکشن اتھاریٹی کے کاموں میں بیجا مداخلت کو نہیں روکا تو وہ الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گی ۔ ممتا بنرجی کو بی جے پی قائدین کی ظاہری حرکتوں نے پریشان کردیا ہے ۔ ان قائدین کا اصل درپردہ منصوبہ کا بھی اندازہ کرنا ان کے لیے ضروری ہے کیوں کہ یہ مغربی بنگال میں بھی پاکستان اور بنگلہ دیش کے نام پر رائے دہندوں کو گمراہ کررہے ہیں ۔ یہ مہم چلائی جارہی ہے کہ اگر ممتا بنرجی کو دوبارہ اقتدار پر لایا گیا تو مغربی بنگال کو بنگلہ دیش یا پاکستان بنایا جائے گا ۔ بی جے پی قائدین اس طرح کی جملہ بازیوں سے رائے دہندوں کا ذہن منتشر کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ اگر ممتا بنرجی ان چالاکیوں سے بے خبر رہتی ہیں تو ان کا بہت بڑا سیاسی نقصان ہوگا ۔ بی جے پی کی انتخابی مہم کا موثر جواب دینے کے لیے ممتا بنرجی کو اپنے کیڈر پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ویسے مغربی بنگال کی خواتین نے ممتا بنرجی سے ہمدردی دکھائی ہے ۔ ممتا بنرجی اس وقت ملک میں کسی ریاست کی واحد خاتون چیف منسٹر ہیں ۔ اس لیے خواتین کی بڑی تعداد ان کے ساتھ دکھائی دے رہی ہے ۔ مغربی بنگال کی سابق سیاسی تاریخ اور انتخابی مہم سے پتہ چلتا ہے کہ انتخابی عمل میں خواتین کا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ممتا بنرجی کے حق میں بہتر ہے ۔ ممتا بنرجی کو چاہئے کہ وہ اپنی ریاست کی خواتین کے لیے اسکیمات تیار کریں ۔ جیسا کہ بہار میں نتیش کمار حکومت نے خواتین کے لیے کئی اسکیمات پیش کی تھیں جس کے نتیجہ میں بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے نتیش کمار کو سہارا دینے کا کام کیا ۔ مغربی بنگال میں بھی خواتین رائے دہندوں کی اکثریت کو ٹی ایم سی کے قریب لایا گیا تو بی جے پی کی تمام کوششیں وقت آنے پر ناکام ثابت ہوں گی ۔۔