ممتا بنرجی ‘ بی جے پی کیلئے اصل چیلنج

   

تمنا آبرو کی ہے اگر گلزارِ ہستی میں
تو کانٹوں سے الجھ کر زندگی کرنے کی خُو کرلے
ایک ایسے وقت جبکہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اور ایس آئی آر کے مسئلہ پر بی جے پی سے ممتابنرجی کے ٹکراؤ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے سابق چیف منسٹر اترپردیش و سماجوادی پارٹی سربراہ اکھیلیش یادو نے ممتابنرجی کو بی جے پی کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ اور قومی سطح پر اصل چیلنج قرار دیا ہے ۔ جس وقت سے بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کو کامیابی ملی ہے اور مہا گٹھ بندھن نے شکست کھائی ہے اس وقت سے بی جے پی کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور وہ اس بار ساری کوشش کر رہی ہے کہ بنگال میں ممتابنرجی کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرلیا جائے ۔ دوسری طرف ایک اور بات محسوس کی جا رہی ہے کہ بہار کی شکست کے بعد سے انڈیا اتحاد میں شامل جماعتوں میں ایک دوسرے کے تعلق سے گرمجوشی دکھائی نہیں دے رہی ہے اور دبے دبے الفاظ میں ایک دوسرے کے تعلق سے منفی خیالات کا اظہار کیا جانے لگا ہے ۔ ایسے میں سماجوادی پارٹی سربراہ اکھیلیش یادو ترنمول کانگریس سربراہ ممتابنرجی کو قومی سطح پر بی جے پی کیلئے اصل رکاوٹ اور چیلنج قرار دیتے ہوئے ممتابنرجی کی تائید میںمیدان میں اتر آئے ہیں۔ ممتابنرجی حقیقی معنوں میں بی جے پی کیلئے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے لگاتار تین مرتبہ بنگال میں اقتدار حاصل کرتے ہوئے بی جے پی کے منصوبوں کو روکے رکھا ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی نشستوں کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ ایسے میں وہ یقینی طور پر بی جے پی کیلئے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہیں اور قومی سطح پر بی جے پی کا مقابلہ کرنے کیلئے کچھ گوشوں سے ممتابنرجی کو ابھارنے کی کوششیں پہلے بھی کی گئی تھیں اور اب بھی کی جا رہی ہیں اور اب ان کوششوں میں اکھیلیش یادو بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ویسے بھی اکھیلیس کے ممتابنرجی سے بہتر تعلقات پہلے سے رہے ہیں تاہم ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں یہ تعلقات اب مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ دونوں ہی سیاسی جماعتوںکیلئے اہمیت کے حامل بھی ہیں اور اپوزیشن کی صفوںکو مستحکم کرنے میں بھی معاون ہوسکتے ہیں۔
چونکہ فی الحال مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات پر سب کی توجہ مبذول ہوئی ہے ایسے میں ممتابنرجی کو مخالف بی جے پی جماعتوں کی تائیدو حمایت ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ آئندہ سال اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہونیو الے ہیں اور ایسے میں اکھیلیش یادو کیلئے بنگال میں بی جے پی کو کامیابی سے روکنا بھی ضروری ہے ۔ اکھیلیش اس بات کو سمجھتے ہیں کہ جس طرح بہار میں بی جے پی کامیابی کے بعد جارحانہ تیور کے ساتھ بنگال میں جدوجہد کر رہی ہے اگر اسی طرح بنگال میں بی جے پی کو کامیابی مل جاتی ہے تو پھر یو پی میں سماجوادی پارٹی کی جدوجہد مشکل ہوسکتی ہے ۔ اگر ممتابنرجی کی قیادت میں بنگال میں بی جے پی کو ایک بار پھر شکست سے دوچار کردیا جائے تو پھر اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کے حوصلے بلندہو سکتے ہیں اور سماجوادی کیڈر میں جوش و خروش پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ اترپردیش میں یہ تاثر دیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کو شکست دینا ناممکن نہیں ہے ۔ ویسے بھی بنگال اور اترپردیش کے اسمبلی انتخابات اس اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں کہ قومی سطح پر بی جے پی کی مخالف جماعتوں میں کانگریس کے بعد ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی ہی کے ارکان پارلیمنٹ سب سے زیادہ ہیں۔ خود بی جے پی کی حلیف جماعتوں سے بھی تقابل کیا جائے تو ترنمول اور سماجوادی پارٹی کا پلڑا ہی بھاری ہے ۔ ایسے میں اکھیلیش یادو اور ممتابنرجی کی کامیابیاں اہمیت کی حامل ہوسکتی ہیں اورا س حقیقت کو اکھیلیش یادو بہتر طور پر سمجھ رہے ہیں۔
ملک کے موجودہ سیاسی ماحول اور آئندہ چند ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی اہمیت کے تناظر میں ممتابنرجی کو بی جے پی کیلئے اصل چیلنج کے طور پر سیاسی حکمت عملی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ ممتابنرجی ایک جارحانہ تیور والی اور تیز طرار لیڈر کے طور پر شہرت رکھتی ہیں اور انہوں نے اپنے اقتدار کے ذریعہ بی جے پی کی شدت سے مخالفت کی ہے اور بنگال میں پوری کوششوں کے باوجود بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا ہے ۔ ایسے میں اکھیلیش کا یہ تبصرہ درست ہی کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کیلئے ممتابنرجی ہی اصل چیلنج ہیں اور یہ چیلنج اس وقت اور بھی سخت ہوسکتا ہے جب وہ بنگال میں بی جے پی کو ایک اور بار شکست سے دوچار کردیں۔