اب جبکہ ملک کی ایک اور سیاسی اعتبار سے اہمیت کی حامل ریاست مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ترنمول کانگریس کی ممتابنرجی اور بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت میںٹکراؤ کی صورتحال میں بھی شدت پیدا ہونے لگی ہے ۔ دونوں ہی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ انتہائی شدید قسم کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ شخصی طور پر بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے اور اس بات کی کسی کو فکر لاحق نہیں ہے کہ انتخابی لڑائی نظریات کی اور اصولوںکی لڑائی ہوتی ہے اس کا شخصی لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ہندوستانی سیاست میں شخصی اختلافات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ تاہم بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت اوراس کے مختلف ذمہ دار افراد کی جانب سے جس طرح کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں وہ مناسب نہیں ہے ۔ جہاں تک ترنمول کانگریس کا سوال ہے وہ بھی بی جے پی کو اسی کے انداز اور لہجے میں جواب دینے سے گریز نہیں کر رہی ہے اور صورتحال پر اس کے اثرات ہونے لگے ہیں۔ انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے پر تنقیدیں اور جوابی تنقیدیں معمول کی بات ہیں لیکن انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنا اور شدید قسم کے ریمارکس کرنا کسی کیلئے بھی مناسب نہیں ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے گذشتہ دنوں بنگال میں خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ممتابنرجی نے سیاسی فائدہ کیلئے در اندازی کی حمایت کی ہے ۔ یہ انتہائی سنگین نوعیت کا الزام ہے ۔ کسی اور بی جے پی لیڈر نے یہ الزام عائد کیا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی تاہم چونکہ امیت شاہ ملک کے وزیر داخلہ ہیں اور در اندازی کو روکناان کا ذمہ ہے ایسے میں اگر وہ کسی چیف منسٹر پر در اندازی کی حمایت کا الزام عائد کر رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بحیثیت وزیر داخلہ انہوں نے چیف منسٹر کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی ہے ۔ در اندازی کی حمات کوئی نہیں کرسکتا اور کسی نے ایسا کیا ہے تو وہ ملک کے خلاف جرم ہے ۔ وزیر داخلہ ایسا الزام عائد کر رہے ہیں تو اس سے قبل انہیں قانونی کارروائی کرنی چاہئے تھی ۔
بی جے پی کے کئی قائدین لگاتار در اندازی کا مسئلہ اٹھاتے ہیں۔ بہار میں یہی مسئلہ موضوع بحث بنایا گیا ۔ اب مغربی بنگال میں اسی کو موضوع بنایا جا رہا ہے ۔ اگر ملک میں در انداز گھس آئے ہیں تو اس کو روکنے میں مرکزی حکومت ناکام ہوئی ہے ۔ مرکز میں تقریبا 12 برس سے بی جے پی زیر قیادت حکومت ہے اور نریندر مودی ملک کے وزیرا عظم ہیں۔ اگر در اندازی کا سلسلہ جاری ہے تو یہ مرکزی حکومت کی ناکامی ہے ۔ کسی ریاست کی چیف منسٹر پر در اندازی کی تائید کرنے کا الزام سنگین ہے ۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر وزارت داخلہ کو ممتابنرجی کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہئے تھی ۔ محض زبانی الزامات عائد کرتے ہوئے سیاسی صورتحال کو متاثر کرنا ملک کے وزیر داخلہ کو ذیب نہیں دیتا ۔ ممتابنرجی نے در اندازی کے مسئلہ پر امیت شاہ سے ہی ان کی کارکردگی کے تعلق سے سوال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں در اندازی ہو رہی ہے تو اسے روکنے میں وزارت داخلہ ناکام کیوں ہے ۔ اس پر بی جے پی کی جانب سے جوابی تنقیدیں شروع کردی گئی ہیں۔ چیف منسٹر مغربی بنگال کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ اس صورتحال میں ملک کے سیاسی حالات پر ہونے والے منفی اثرات کی کسی کو پرواہ یا فکر نہیں ہے ۔ ہر کوئی صرف اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے سرگرم رہنا چاہتا ہے ۔ سیاسی جماعتو ںاور ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کو اس طرح کے طرز عمل سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔
سیاسی نظریات کے اختلافات اپنی جگہ ضرور اہمیت کے حامل ہیں اور ان کا احترام کیا جانا چاہئے تاہم کسی کو بھی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ملک کے ماحول کو بگاڑنے کی یا پھر کسی کی کردار کشی کرنے یا کسی پر شخصی الزامات عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ ہر جماعت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ انتخابات پانچ سال میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن ہندوستانی سیاست کا کو داغدار ہونے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ کسی پر تنقیدیں نظریات کی بنیاد پر ہونی چاہئیں شخصی بنیادوں پر نہیں۔ انتخابات کے وقت جیسے جیسے قریب آتا جائے گا اتنا ہی سیاسی جماعتوں کو احتیاط سے زبان کھولنا چاہئے ۔
