اندرون 45 یوم کام کی تکمیل ہوگی ، 22A کے تحت قانونی جواز کا جائزہ : وزیر سرینواس ریڈی
حیدرآباد۔6۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے 22A کے تحت ممنوعہ جائیدادوں کی جانچ کرتے ہوئے مالکین جائیداد کو ان کی جائیدادوں سے محروم کئے جانے کی معاملات کی جانچ کرتے ہوئے دعویداروں کی جائیدادوں کی تنقیح کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اندرون 45 یوم 22A کے تحت ممنوعہ جائیدادیں جن کی رجسٹری نہیں کروائی جاسکتی ان دستاویزات کی جانچ کے اقدامات کئے جائیں گے۔ریاستی وزیر مال مسٹر پونگیلیٹی سرینواس ریڈی نے محکمہ مال کے اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس طلب کرتے ہوئے انہیں اس بات کی ہدایت دی ہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی 45 دن کی مہلت میں ان کاموں کو مکمل کرلیا جائے تاکہ حقیقی جائیداد مالکین جو کہ 22A کے سبب متاثر ہورہے ہیں انہیں راحت پہنچانے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ریاستی وزیر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ 22A کے سبب متاثر ہونے والے کسی بھی غریب مالک جائیداد کو ہراسانی کا شکار بنانے کے بجائے ان کی جائیدادوں سے متعلق دستاویزات کی تنقیح کے اقدامات کریں اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں تعاون کریں۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں جن جائیدادوں کو 22A میں شامل کرتے ہوئے ممنوعہ قرار دیا گیا ہے ان جائیدادوں کے تمام دستاویزات بشمول جائیدادوں پر اپنی ملکیت کے دعوے کرنے والوں کے دستاویزات کی تنقیح کے اقدامات کئے جائیں اور اس سلسلہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات اور رہنمایانہ خطوط کے مطابق ہی کاروائیوں کو مکمل کیا جائے ۔مسٹر پی سرینواس ریڈی نے عہدیداروں سے مشاورت کے دوران کہا کہ ریاستی حکومت سیکشن 22-A کے قانونی جواز کا جائزہ لے رہی ہے اور مسلسل عدالت سے رجوع ہونے والوں کی شکایات اور ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں خانگی جائیدادوں کو شامل کئے جانے کے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی ناانصافی نہ ہو بلکہ انہیں راحت پہنچانے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ریاستی حکومت اراضیات کے متعلق اپنا واضح موقف رکھتی ہے اور کسی بھی جائیداد کو جبری طو رپر ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کئے جانے کے اقدامات کے ذریعہ کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی ۔ ریاستی وزیر مال نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عدالت میں داخل کئے گئے جواب کے دوران بھی ’’دھرانی ‘‘ پورٹل پر جن جائیدادوں کو 22A میں شامل کرتے ہوئے ممنوعہ قرار دیا گیا ہے وہی فہرست پیش کی گئی ہے اس کے علاوہ کسی بھی جائیداد کو سرکاری یا ممنوعہ قرار دیئے جانے کے اقدامات نہیں کئے گئے اور نہ ہی عدالت میں پیش کی گئی فہرست میں کسی بھی جائیداد یا سروے نمبر کا اضافہ کیاگیا ہے۔حکومت کو خانگی جائیدادوں کو 22A میں شامل کرتے ہوئے ان کی فروخت میں رکاوٹ پیدا کئے جانے کے الزامات کا سامنا ہے۔3/m/b