منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کیلئےاسپیکر اسمبلی کو تین ہفتوں کی مہلت

   

حیدرآباد ۔6 ۔ فروری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جی پرساد کمار کو منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کیلئے مزید تین ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر اسپیکر باقی ارکان اسمبلی کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر کارروائی میں ناکام رہتے ہیں تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ جسٹس سنجے کرول اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بنچ نے بی آر ایس ارکان اسمبلی کی جانب سے اسپیکر کے خلاف دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ۔ اسپیکر اسمبلی کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل ابھیشک منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ اسپیکر نے 8 ارکان اسمبلی کے خلاف شکایتوں پر فیصلہ سنادیا ہے اور دو ارکان اسمبلی کے بارے میں تحقیقات باقی ہے۔ بی آر ایس کے وکیل موہت راؤ نے کہا کہ باقی دو ارکان اسمبلی کے معاملہ میں ٹھوس ثبوت پیش کیا گیا ہے ۔ ان دونوں کے بارے میں تحقیقات کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایک نے بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد کانگریس ٹکٹ پر لوک سبھا چناؤ میں حصہ لیا جبکہ دوسرے رکن اسمبلی کی دختر نے کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا چناؤ میں مقابلہ کیا۔ بی آر ایس سے منتخب رکن اسمبلی نے کانگریس کیلئے انتخابی مہم چلائی ۔ دونوں ارکان اسمبلی واضح طورپر انحراف کے باوجود بی آر ایس میں برقراری کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔ ابھیشک منو سنگھوی نے کہا کہ تلنگانہ میں مجالس مقامی کے انتخابات جاری ہیں ، لہذا ارکان اسمبلی کے خلاف تحقیقات کیلئے مارچ کے وسط تک وقت دیا جائے۔ بی آر ایس کے وکیل نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تین ماہ کی مہلت پہلے ہی دی جاچکی ہے۔ فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے تین ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے تحقیقات کو مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ جسٹس کرول نے واضح کیا کہ یہ آخری مہلت ہوگی اور ناکامی کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ جسٹس کرول نے کہا کہ گزشتہ سماعت کے موقع پر تین ہفتے کی مہلت طلب کی گئی تھی لیکن عدالت نے دو ہفتے کا وقت دیا تاکہ پیشرفت کا جائزہ لے۔ ہمیں امید ہے کہ اسپیکر مثبت انداز میں فیصلہ کریں گے اور ناکامی کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ واضح رہے کہ 16 جنوری کو سپریم کورٹ نے ارکان اسمبلی کے بارے میں فیصلہ کرنے کیلئے دو ہفتے کی مہلت دی تھی۔1
فیصلہ میں تاخیر پر بی آر ایس کی جانب سے اسپیکر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔ جسٹس کرورل اور جسٹس مسیح نے واضح کردیا کہ اس معاملہ میں مزید کوئی توسیع نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ اسپیکر نے تاحال 10 کے منجملہ 8 ارکان اسمبلی کے بارے میں تحقیقات مکمل کرتے ہوئے کلین چٹ دے دی ہے۔1 واضح رہے کہ 16 جنوری کو سپریم کورٹ نے ارکان اسمبلی کے بارے میں فیصلہ کرنے کیلئے دو ہفتے کی مہلت دی تھی۔فیصلہ میں تاخیر پر بی آر ایس کی جانب سے اسپیکر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔ جسٹس کرورل اور جسٹس مسیح نے واضح کردیا کہ اس معاملہ میں مزید کوئی توسیع نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ اسپیکر نے تاحال 10 کے منجملہ 8 ارکان اسمبلی کے بارے میں تحقیقات مکمل کرتے ہوئے کلین چٹ دے دی ہے۔1