منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کیلئے اسپیکر کو کتنا وقت چاہئے ؟

   

سپریم کورٹ کا سوال ، بی آر ایس کی درخواست سماعت ، فیصلہ میں تاخیر پر جسٹس گوائی کی برہمی
حیدرآباد ۔31۔جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے بی آر ایس سے تعلق رکھنے والے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف درخواست کی آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ رکن اسمبلی پی کوشک ریڈی نے درخواست دائر کرتے ہوئے شکایت کی کہ ہائی کورٹ کی جانب سے منحرف ارکان کے خلاف اسپیکر اسمبلی کو چار ماہ کی مہلت دیئے جانے کے باوجود اسپیکر نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس ایم جارج پر مشتمل بنچ نے اس معاملہ کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ نے منحرف ارکان کے خلاف پیش کردہ درخواستوں کی سماعت اور یکسوئی کیلئے گزشتہ سال مارچ میں 4 ماہ کا وقت دیا تھا ۔ مہلت گزرنے کے باوجود اسپیکر اسمبلی پرساد کمار نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ سکریٹری لیجسلیچر کی جانب سے سینئر قانون داں مکل روہتگی نے عدالت کو بتایا کہ اسپیکر کی جانب سے ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں اسپیکر اسمبلی کو فیصلہ کیلئے مناسب وقت دینے کے احکامات جاری کئے تھے۔ جسٹس بی آر گوائی نے مکل روہتگی سے سوال کیا کہ آخر اسپیکر کو فیصلہ کرنے کیلئے کتنا وقت چاہئے ۔ عدالت نے اسپیکر اسمبلی کے رویہ پر ناراضگی جتائی ۔ جسٹس گوائی نے دریافت کیا کہ آخر اسپیکر کو فیصلہ کرنے کیلئے کتنا وقت چاہئے ۔ مکل روہتگی نے کہا کہ اسپیکر مناسب مدت میں فیصلہ کریں گے جس پر جسٹس گوائی نے برہمی کا اظہار اور کہا کہ آپ کے خیال میں مناسب وقت کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مناسب وقت کا مطلب مہاراشٹرا کی طرز پر مدت تو نہیں جہاں اسمبلی کی میعاد کی تکمیل تک بھی منحرف ارکان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ جسٹس گوائی نے دریافت کیا کہ منحرف ارکان کے خلاف درخواستوں پر اسپیکر کب تک فیصلہ کریں گے۔ مکل روہتگی نے کہا کہ اس سلسلہ میں اسپیکر اسمبلی سے بات چیت کے بعد عدالت کو واقف کرایا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے مقدمہ کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کردی ہے۔ واضح رہے کہ منحرف ارکان کے سری ہری ، ڈی ناگیندر اور وینکٹ راؤ کو نااہل قرار دینے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ پی کوشک ریڈی اور ویویکانند ارکان اسمبلی نے یہ در خواست داخل کی ہے ۔ انہوں نے شکایت کی کہ تینوں ارکان اسمبلی نے بی آر ایس کے نشان پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اسپیشل لیو پٹیشن پر سپریم کورٹ سماعت کر رہا ہے۔1