مندرسے ’مسلمان کا داخلہ ممنوع‘ والا سائن بورڈ ہٹالیا گیا

   

کنور:کیرالہ میں ایک مندر کمیٹی نے ایک تنازعہ کے بعد ایک سائن بورڈ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ریاست میں زیادہ تر عبادت گاہوں میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔مندر میں یہ بورڈ لگاہوا تھا کہ یہاں مسلمانوں کا داخلہ ممنوع ہے، یہ بورڈ اب ہٹادیا گیا ہے۔ کنور ضلع کے پاینور میں ملیوتو پالوتوکاو کا انتظام کرنے والی کمیٹی نے پیر کو یہ فیصلہ کیا کہ ہر سال اپریل میں منعقد ہونے والے پانچ روزہ سالانہ تہوار سے پہلے لگائے جانے والے سائن بورڈ کو ہٹا دیا جائے۔ یہ فیصلہ کیرالہ کے چیف منسٹر پنارائی وجین کے ساتھ موافقت میں کیا گیا جنہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو پڑوسی ریاست کرناٹک کے مقابلے میں اپنی ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہونے کی بات کہی تھی۔وجین کے جواب میں شاہ نے کرناٹک کے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے قریب کیرالہ ہے۔ میں زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔بی جے پی کی ایک ریلی میں اپنے انتخابی جلسے میں انہوں نے یہ بات کہی تھی۔ ان کا اشارہ کیرالہ میں کچھ بنیاد پرست مسلمانوں کی موجودگی کی طرف تھا۔ریمارکس نے کیرالہ میں ایک بہت بڑا تنازعہ اور احتجاج شروع کر دیا جہاں سی پی ایم رہنماؤں نے شاہ سے پوری ریاست اور اس کے لوگوں کو دقیانوسی تصور کرنے کی کوشش پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔وجین نے شاہ کے ریمارکس کے جواب میں کہا تھا تمام مذاہب کے لوگ کیرالہ میں امن سے رہتے ہیں۔ کیا کرناٹک کا یہی حال ہے؟ کرناٹک میں عیسائیوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو کئی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن کیرالہ میں کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا ہے۔پالوتوکاو مندر کی گزشتہ سال اس وقت شدید تنقید ہوئی جب ایک بورڈ اس کے احاطے کے باہر نمودار ہوا جس میں لکھا گیا تھا کہ تہوار کے دوران مسلمانوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ اگرچہ یہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے، بورڈ کو اس وقت کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب کچھ سوشل میڈیا صارفین ایک کمیونٹی کو الگ تھلگ کرنے کے خلاف سامنے آئے، وہ بھی اس وقت جب تمام طبقوں کے لوگ فیسٹیول میں ہونے والی مختلف ثقافتی تقریبات کے لیے رقم عطیہ کرتے ہیں۔مندر کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ اس بورڈ کو کسی ایسے مندر میں جگہ نہیں ملے گی جس کی روایات سیکولر ہوں۔یہ مندر اپنے تھیام کے لیے مشہور ہے، یہ ایک سیکولر رسمی رقص ہے جو عام طور پر شمالی کیرالہ کے اضلاع کنور اور کاسرگوڈ میں پیش کیا جاتا ہے۔ دونوں اضلاع میں متعدد ہندو مندروں میں میپیلا (مسلم) تھیام کی کئی شکلیں بھی ہیں، جنہیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔