منشیات کنٹرول بیورو پر شبہات

   

Ferty9 Clinic

راہ پُر خار ہے اور رات بھی اندھیری
دور تک کوئی چراغِ رُخِ زیبا بھی نہیں
منشیات کنٹرول بیورو پر شبہات
ملک کے مختلف تحقیقاتی اداروں اور ایجنسیوں کے حکومت کی ایما اور اس کے اشاروں پر کام کرنے کے شبہات کے بعد اب منشیات کنٹرول بیورو پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ خاص طور پر ممبئی میں ڈرگس پارٹی کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد سے منشیات کنٹرول بیورو پر سوال اٹھنے لگے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ بیورو اب بی جے پی اور اس کے کارکنوں کے ساتھ اشتراک سے کام کر رہا ہے ۔ بی جے پی کے کارکن اور ذمہ داران منشیات کنٹرول بیورو کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ چھاپوں اور دھاووں میں بھی یہ کارکن مدد کر رہے ہیں اور پھر جو لوگ گرفتار ہوتے ہیں ان میں ’ اپنوں ‘ کو رہا کروانے میں بھی ان کا اہم رول ہوتا ہے ۔ ممبئی میں گذشتہ ہفتے ڈرگس پارٹی کیس میں بالی ووڈ کے اسٹار شاہ رخ خان کے فرزند آرین خان کی گرفتاری کے بعد سے یہ معاملہ مسلسل عوام کی توجہ حاصل کرتا جا رہا ہے ۔ جہاں تک میڈیا کا سوال ہے تو میڈیا حسب معمول اپنی تلوے چاٹو پالیسی پر ہی عمل پیرا ہے ۔ چند دن قبل ہی گجرات میں اڈانی بندرگاہ سے ہزاروں کروڑ روپئے کی منشیات اور ڈرگس وغیرہ ضبط کی گئی تھیں لیکن اس پر میڈیا کوئی توجہ نہیں دی ۔ یہ معاملہ کارپوریٹ دنیا کی با اثر شخصیت اڈانی کا ہے جو بی جے پی سے قریبی تعلق رکھتے ہیں اور وزیر اعظم کے خاص حلقہ میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم جب ممبئی میں ایک پارٹی پر دھاوا ہوتا ہے ا ور وہاں شاہ رخ خان کے فرزند کی گرفتاری ہوتی ہے تو سارا میڈیا یہاں دوڑا چلا آتا ہے اور صبح و شام اس پر مباحث ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے فیصلے سنائے جاتے ہیں۔ اپنے اپنے انداز میں کسی کو بدنام کرنے کی مہم پوری شدت کے ساتھ شروع کردی جاتی ہے ۔ ان حالات میں خود منشیات کنٹرول بیورو کے رول اور اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ منشیات کنٹرول بیورو کے دھاووں میں بی جے پی کارکنوں کی موجودگی سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وہ کارکن ہیں جو دھاوے کے وقت کشی پر موجود رہتے ہیں۔یہی کارکن ملزمین کو حراست میں لئے جاتے وقت پولیس اور این سی بی عہدیداروں کی طرح کام کرتے ہیں جو شکوک کو جنم دیتا ہے ۔
بعض گوشوں سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ ان ہی کارکنوں نے دھاوے کے وقت گرفتار کئے گئے تین افراد کو رہا کروانے میں بھی اہم رول ادا کیا ہے جو بی جے پی قائدین کے رشتہ دار بتائے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ کسی بڑے بی جے پی لیڈر سے بات کروانے کے بعد ان افراد کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ پنچ ناموں پر بھی سوال پیدا ہونے لگے ہیں۔ ایک ملزم کا پنچ نامہ ہاتھ سے تحریر کردہ ہے تو دوسرے کا کمپیوٹر سے تیار کردہ ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ جن منشیات کی ضبطی کا دعوی کیا جا رہا ہے وہ در اصل شپ سے دستیاب ہی نہیں ہوئے تھے ۔ یہ تو این سی بی کے دفتر میں لا کر رکھے گئے ہیں تاکہ ایک مخصوص گوشے کو بدنام کیا جاسکے ۔ تین افراد کی رہائی کا ایک ویڈیو بھی سوشیل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے اور مہاراشٹرا کے ایک ذمہ دار وزیر نے اسے جاری کیا ہے ۔ ایسے میں منشیات کنٹرول بیورو اور اس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔ جہاں تک بی جے پی کارکنوں کی جہاز پر موجودگی کا سوال ہے تو ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ہی محکمہ کو خبر دی ہو ۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ لیکن انہیں کسی بھی حیثیت میں دھاوے میں شامل ہونے یا این سی بی کے دفتر میں ملزمین کو پکڑ کر یا گھسیٹ کر لانے کا اختیار نہیں ہوسکتا ۔ این سی بی نے کس حیثیت میں ان کی خدمات حاصل کی ہیںاس کی وضاحت کی جانی چاہئے ۔ اس کے علاوہ جن تین افراد کو رہا کرنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں اور اس کا ویڈیو بھی جاری کیا گیا ہے اس پر بھی این سی بی کو وضاحت کرنا چاہئے ۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ملک میں کئی ادارے ایسے ہیں جو اب اپنی دستوری اور قانونی ذمہ داری کو غیرجانبدارانہ یا آزادانہ انداز میں ادا نہیں کر رہے ہیں۔ ان اداروں کو حکومت یا حکومت کے ذمہ داران کی جانب سے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا جاسکے ۔ انہیں دھمکایا جاسکے ۔ ان کے خلاف مقدمات درج کئے جاسکیں اور پھر انہیں اپنی صفوں میں شامل کرلیا جائے ۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس روش کو بدلا جائے ۔ منشیات کنٹرول بیورو کو اپنے آپ کو سیاسی اثر سے آزاد کرتے ہوئے پیشہ ورانہ دیانت اور مہارت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسے یہ واضح کرنا ہوگا کہ آیا کچھ ملزمین کو رہا کیا گیا ہے یا نہیں اور اگر کیا گیا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں۔ بی جے پی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے پر بھی اسے جوابدہ بنایا جانا چاہئے ۔
لکھیم پور ملزم یا وی آئی پی مہمان ؟
لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو گاڑی سے روند دینے کے واقعہ کے ملزم آشیش مشرا جو مرکزی وزیر اجئے مشرا کے فرزند ہیں ‘ آج جب پولیس کی طلبی پر پوچھ تاچھ کیلئے آئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کوئی ملزم نہیں بلکہ ایک وی آئی پی مہمان ہیں اور سارا پولیس محکمہ ان کی آو بھگت میں جٹ گیا ہے ۔ آشیش مشرا جب پوچھ تاچھ کیلئے پہونچے تو ان کے ساتھ دو قانونی مشیر ‘ ایک رکن اسمبلی اور کئی سیاسی قائدین بھی تھے ۔ آشیش مشرا کوپچھلے دروازے سے پوچھ تاچھ کیلئے لایا گیا اور کہیں سے بھی یہ تاثر نہیں مل رہا تھا کہ وہ قتل کیس میں ملزم بنائے گئے ہیں اور پوچھ تاچھ کیلئے آئے ہوئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اترپردیش پولیس کی بہادری اور اس کی پیشہ ورانہ دیانت کہاں غائب ہوگئی ۔ غریب عوام پر معمولی دفعات رہنے پر بھی انہیںتھرڈ ڈگری کے ذریعہ ایذا دینے والی یو پی پولیس ایک مرکزی وزیر کے فرزند کے آگے غلامی کی حدیں پار کیوں کر رہی تھی ؟ ۔ کیا یو پی پولیس قتل کے کسی دوسرے عام ملزم کے ساتھ بھی اسی طرح کا وی آئی پی برتاو کرے گی ؟ ۔ کیا سیاسی اثر و رسوخ کا دبدبہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ پولیس بھی پوری آزادی سے کام نہیں کر پا رہی ہے یا پھر اسے یہ احکام مل چکے ہیں کہ اس معاملے میں نرمی برتی جائے ؟ ۔ ابتداء ہی سے اترپردیش پولیس اس معاملے میںتنقیدوں کا نشانہ بن رہی ہے اس کے باوجود پولیس کو اپنے امیج کی فکر نہیں ہے بلکہ سیاسی غلامی کی فکر لاحق ہے جس سے انصاف رسانی کا عمل شرمسار ہو کر رہ گیا ہے ۔