بالی ووڈ کے سوپر اسٹار شاہ رخ خان کے فرزند آرین خان کی ڈرگس معاملہ میں گرفتاری کا کیس اب دھماکو شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور بعض گوشوں سے یہ الزامات عائد کئے جا رہے ہیں کہ ممبئی میں ڈرگس کنٹرول بیورو در اصل جبری وصولی کا مرکز بن گیا ہے اور فلمی ستاروں یا ان کے افراد خاندان کو نشانہ بناتے ہوئے کروڑوں کی رقم وصول کی جا رہی ہے ۔ ابتداء میں یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ این سی بی نے جس شپ پر دھاوا کیا تھا اس وقت خانگی افراد کو بھی شامل کیا گیا تھا اور خانگی افراد ملزمین کو گرفتار کرکے این سی بی کے دفتر بھی لائے تھے ۔ آج اس کیس میں جو سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں ان میں دعوی کیا گیا ہے کہ این سی بی کے دھاوے میں شامل ایک خانگی شخص کے پی گوساوی نے شاہ رخ خان کے فرزند کی گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر 25 کروڑ روپئے کی مانگ کی تھی اور بعد میں 18 کروڑ میں معاملہ طئے کرنے سے اتفاق کیا تھا اور یہ دعوی بھی کیا تھا کہ اس رقم میں 8 کروڑ روپئے این سی بی کے زونل ڈائرکٹر سمیر وانکھیڈے کو ادا کرنے ہیں۔ یہ انکشاف کسی اور نے نہیں بلکہ خود کے پی گوساوی کے شخصی باڈی گارڈ پربھاکر سائل نے کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت اس کار میں موجود تھے جب سمیر گوساوی نے کسی سام ڈیسوزا سے فون پر بات کرتے ہوئے 18 کروڑ میں معاملہ طئے کرنے سے اتفاق کیا تھا اور وانکھیڈے کو رقم ادا کرنے کا تذکرہ کیا تھا ۔ پربھاکر سائل نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ اس کے چند ہی منٹ بعد کے پی گوساوی ‘ سام ڈیسوزا اور شاہ رخ خان کی مینیجر پوجا دادلانی نے کار میں 15 منٹ کی ملاقات کی تھی ۔ پربھاکر کا کہنا ہے کہ اس نے کے پی گوساوی سے کچھ رقم لے کر اسے سام ڈیسوزا کو پہونچایا تھا ۔ یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ پربھاکر سائل اس کیس میں این سی بی کا گواہ بھی ہے ۔ پربھاکر سائل نے یہ انکشافات ایک حلفنامے میں کئے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اب کے پی گوساوی لاپتہ ہوگیا ہے اور خود اسے بھی اپنی زندگی خطرہ میں محسوس ہونے لگی ہے ۔ یہ سارے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور اس سے سارے کیس کی نوعیت ہی متاثر ہونے لگی ہے ۔
مہاراشٹرا کے وزیر و این سی پی لیڈر نواب ملک ابتداء ہی سے اس معاملے میں منشیات کنٹرول بیورو کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور اس کی کچھ کارروائیوں اور مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے ڈرگس دھاوا معاملے میں خانگی افراد کو شامل کرنے انہیں کھلی چھوٹ دینے پر سوال اٹھایا تھا اور انہوں نے این سی بی عہدیدار سمیر وانکھیڈے کے کردار پر بھی شبہات کا اظہار کیا تھا ۔ اب جبکہ کے پی گوساوی کے شخصی باڈی گارڈ نے ایک حلفنامہ میں یہ سارے انکشافات کئے ہیں جن سے اس کیس کی نوعیت ہی بدلتی نظر آ رہی ہے ۔ پولیس ہو یا پھر منشیات کنٹرول بیورو کے دوسرے عہدیدار ہوں سبھی کو اس معاملے میں غیرجانبداری سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے ۔ نہ صرف ڈرگس معاملے کی گہرائی تک جانا چاہئے بلکہ کروڑہا روپئے رشوتوں کی ادائیگی کے جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ان کی بھی مکمل جانچ ہونی چاہئے ۔ سب سے پہلے تو یہی جانچ ہونی چاہئے کہ منشیات کنٹرول بیورونے خانگی افراد کو دھاوے میں شامل کیوں کیا ۔ انہیں حراست میں لئے گئے افراد کو این سی بی کے دفتر میں لانے اور وہاں بیٹھ کرا ن سے فون پر بات چیت کروانے کی اجازت کس طرح دی گئی ۔ یہ سارا کچھ کس عہدیدار کی ایماء پر ہوا ہے ۔ خانگی افراد کے کس کس عہدیدار سے روابط رہے ہیںان سب کی بھی تفصیلی جانچ کی جانی چاہئے ۔ ۔ ان کے فون کالس وغیرہ کی تفصیل بھی حاصل کرتے ہوئے مزید حقائق کو منظر عام پر لایا جاسکتا ہے ۔
کچھ گوشوں سے ابتداء سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ محض معمولی سی مقدار میں منشیات کی ضبطی کا دعوی کرتے ہوئے در اصل ایک مخصوص فلم اسٹار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ا ب جو کروڑہا روپئے کی ہیرا پھیری کے الزامات آئے ہیں وہ بھی سنگین ہیں۔ بھلے ہی یہ ابھی الزامات ہیں لیکن ان سب کی تحقیقاتی ایجنسیوں کو جامع اور پیشہ ورانہ انداز میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے ۔ حقائق کو منظر عام پر لانا اور تمام الزامات کی جانچ کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔ سارے معاملے میں جس کسی نے بھی غلط کیا ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے چاہے وہ شاہ رخ خان کا فرزند ہو یا پھر این سی بی کا عہدیدار ہو ۔
